صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ يَرُدُّ الْمُصَلِّي مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ:
باب: چاہیے کہ نماز پڑھنے والا اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روک دے۔
حدیث نمبر: Q509
وَرَدَّ ابْنُ عُمَرَ فِي التَّشَهُّدِ وَفِي الْكَعْبَةِ وَقَالَ إِنْ أَبَى إِلاَّ أَنْ تُقَاتِلَهُ فَقَاتِلْهُ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کعبہ میں جب کہ آپ تشہد کے لیے بیٹھے ہوئے تھے روک دیا تھا اور اگر وہ (گزرنے والا) لڑائی پر اتر آئے تو اس سے لڑے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: Q509]
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْأَبِي سَعِيدٍ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن عبید نے حمید بن ہلال کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابوصالح ذکوان سمان سے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دوسری سند) اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے، کہا ہم سے حمید بن ہلال عدوی نے، کہا ہم سے ابوصالح سمان نے، کہا میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا۔ اس کے بعد ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے۔ مروان نے کہا اے ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اسے لڑنا چاہیے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 509]
ابوصالح سمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعۃ المبارک کے دن کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بنا کر نماز پڑھ رہے تھے کہ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک نوجوان نے ان کے آگے سے گزرنے کی کوشش کی۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کو سینے سے دھکیل کر روکنا چاہا۔ نوجوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن آگے سے گزرنے کے علاوہ اسے کوئی راستہ نہ ملا۔ وہ پھر اس طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسے پہلے سے زیادہ زوردار دھکا دیا۔ اس نے اس پر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا۔ بعد ازاں وہ مروان کے پاس پہنچ گیا اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے جو معاملہ پیش آیا تھا اس کی شکایت کی۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے مروان کے پاس پہنچ گئے۔ مروان نے کہا: اے ابوسعید! تمہارا اور تمہارے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے کوئی اگر کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بنا کر نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنے کی کوشش کرے تو وہ (نمازی) اسے روکے۔ اگر وہ (گزرنے والا) نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة