مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 1838M
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ.
حدیث نمبر: 1838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1838]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1635، م: 2027.
حدیث نمبر: 1839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا؟ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تنہا چاہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1839]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه.
حدیث نمبر: 1840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعا فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1840]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 75.
حدیث نمبر: 1841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: وَأَتَى السِّقَايَةَ، فَقَالَ:" اسْقُونِي"، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ، وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1841]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1607، 1635، م: 1272. وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .
حدیث نمبر: 1842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1842]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس هشيم.
حدیث نمبر: 1843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا،" فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي، أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1843]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5919، م: 763.
حدیث نمبر: 1844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ، رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ:" إِنَّهُ زَوْجُكِ" , فَقَالَتْ: تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ"، قَالَ: فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خیار عتق مل گیا (اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کر لی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کے لئے کہا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ”وہ تمہارا شوہر ہے“، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں“، اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1844]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5283.
حدیث نمبر: 1845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1845]
حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 1846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1846]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، على بن زيد بن جدعان ضعيف لسوء حفظه.