🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا!، قَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12020]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا، فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ، فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً، فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا , فَآمَنَّاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ"، فَقَالُوا: بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا، وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12021]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَكَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ: بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا، إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ، لَكُنَّا مَعَكَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12022]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ، فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ، فَدَعَوْنَ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ، فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ، قَامَا مُسْرِعَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ، فرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَأَرْخَى السِّتْرَ َبَيْنَهُ وَبَيْنِي، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے یہاں رہے، اس کی صبح کو میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت ولیمہ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12023]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5154 ، م: 1428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لِيَنْظُرَ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ، قَالَ: فَتَطَاوَلَ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سے سر اٹھاتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرسکیں اور عرض کیا کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12024]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3811 ، م: 1811
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے؟ بنو نجار کا گھر، پھر بنو عبدالاشہل کا گھر، پھر بنو حارث بن خزرج کا اور پھر بنی ساعدہ کو اور یوں بھی انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12025]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5300 ، م: 2511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا"، قَالَ: فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ، يَقُولُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12026]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، قَالَ: أَظُنُّهَا عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، قَالَ: فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ، فَكَسَرَتْ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" غَارَتْ أُمُّكُمْ"، قَالَ: وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ، فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ، ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا"، فَأَكَلُوا، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا , فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَا.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کردیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12027]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2481
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَتُوُفِّيَ الْغُلَامُ، فَهَيَّأَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَيِّتَ، وَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا يُخْبِرَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَبَا طَلْحَةَ بِوَفَاةِ ابْنِهِ، فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: مَا فَعَلَ الْغُلَامُ؟، قَالَتْ: خَيْرٌ مَا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ عَشَاءَهُمْ، فَتَعَشَّوْا، وَخَرَجَ الْقَوْمُ، وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى مَا تَقُومُ إِلَيْهِ الْمَرْأَةُ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَلَمْ تَرَ إِلَى آلِ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا عَارِيَةً، فَتَمَتَّعُوا بِهَا، فَلَمَّا طُلِبَتْ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَاكَ، قَالَ: مَا أَنْصَفُوا، قَالَتْ: فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَإِنَّ اللَّهَ قَبَضَهُ، فَاسْتَرْجَعَ، وَحَمِدَ اللَّهَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ، فَوَلَدَتْهُ لَيْلًا، وَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: فَحَمَلْتُهُ غُدْوَةً وَمَعِي تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ، فَوَجَدْتُهُ يَهْنَأُ أَبَاعِرَ لَهُ، أَوْ يَسِمُهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ اللَّيْلَةَ، فَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ، فَأَخَذَ بَعْضَهُنَّ فَمَضَغَهُنَّ، ثُمَّ جَمَعَ بُزَاقَهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ:" حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِ، قَالَ:" هُوَ عَبْدُ اللَّهِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے لئے نکلے تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا اور گھر والوں سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے ساتھ مسجد سے ان کے کچھ دوست بھی آئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا سب نے کھانا کھایا، لوگ چلے گئے تو وہ ان کاموں میں لگ گئیں جو عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ جب رات کا آخری پہر ہوا تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہوا تو وہ اس پر ناگواری ظاہر کرنے لگے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ لوگ انصاف نہیں کر رہے، ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تمہارا بیٹا بھی اللہ کی طرف سے عاریت تھا، جسے اللہ نے واپس لے لیا ہے اس پر انہوں نے «انا لله وانا اليه راجعون» کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہو گئیں، جب ان کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ رات کا وقت تھا۔ انہوں نے اس وقت بچے کو گھٹی دینا اچھا نہ سمجھا اور یہ چاہا کہ اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچھ عجوہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے خود اسے گھٹی دینا مناسب نہ سمجھا اور چاہا کہ اسے آپ گھٹی دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نام رکھ دیجئے، فرمایا: اس کا نام عبداللہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12028]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5470 ، م: 2119
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12029
حَدَّثَنَا عبدُ الله، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12029]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں