مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 11990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوجِزُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مکمل اور مختصر کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11990]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 11991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قراءت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11991]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 371 ، م: 1365
حدیث نمبر: 11992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ"، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ , وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ , خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ!، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا والْخَميسُ، قَالَ: فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً , فَجُمِعَ السَّبْيُ , قَالَ: فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، قَالَ:" اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً"، قَالَ: فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ؟! وَاللَّهِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوهُ بِهَا"، فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا"، ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا؟، قَالَ: نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ، فَلْيَجِئْ بِهِ"، وَبَسَطَ نِطَعًا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ، قَالَ: فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، ہم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی، نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی گلیوں میں چکر لگانے لگے، بعض اوقات میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چھو جاتا تھا اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے ذرا سا تہبند کھسک جاتا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی سفیدی نظر آجاتی۔ الغرض! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، یہ جملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر ہم نے خیبر کو بزور شمشیر فتح کرلیا اور قیدی اکٹھے کئے جانے لگے، اسی اثناء میں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! مجھے قیدیوں میں سے کوئی باندی عطاء فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر ایک باندی لے لو، چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا، بخدا! وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، چنانچہ وہ انہیں لے کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر ایک نظر ڈالی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا، حتیٰ کہ راستے میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو دلہن بنا کر تیار کیا اور رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صبح دولہا ہونے کی حالت میں ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے اور ایک دستر خوان بچھا دیا، چنانچہ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لایا، لوگوں نے اس کا حلوہ بنالیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11992]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد منقطع، فان الاعمش لم يسمع من انس، وانما رآه رؤية
حدیث نمبر: 11993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْهُونَةً، مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا حَتَّى مَاتَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی، اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ اسے چھڑوا سکتے حتیٰ کہ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11993]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 400
حدیث نمبر: 11994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " کوثر " جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11994]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7296 ، م: 136
حدیث نمبر: 11995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِي:" إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَتَسَاءَلُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ، حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ النَّاسَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ہے آپ کی امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے حتیٰ کہ یہاں تک کہنے لگیں گے کہ یہ تو اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11995]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 400
حدیث نمبر: 11996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، إِمَّا قَالَ لَهُمْ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ: لِمَ ضَحِكْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هُوَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ، يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي!، فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے بیٹھے اونگھ کی کیفیت طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ " پڑھ کر پوری سورت کوثر پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے، اس پر خیر کثیر ہوگی اور قیامت کے دن میرے امتی وہاں آئیں گے اور اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ان میں سے ایک بندے کو کھینچ کر نکالا جائے گا تو میں کہوں گا کہ پروردگار! یہ تو میرا امتی ہے، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11996]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 419 ، م: 426
حدیث نمبر: 11997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالْقُعُودِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَايْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا رَأَيْتَ؟، قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11997]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 11998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي يونس ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11998]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 622، وهذا اسناد فيه عنعنة محمد بن اسحاق، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 11999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ، فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟، قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ!، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11999]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331