مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 11971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11971]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن كسابقة، خ: 213
حدیث نمبر: 11971M
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ".
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11971M]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 597 ، م: 684
حدیث نمبر: 11972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا , فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا"، قَالَ يَزِيدُ: فَكَفَّارَتُهَا أَنْ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے، اسے پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11972]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2734
حدیث نمبر: 11973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ، فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھائے یا پانی کا گھونٹ پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11973]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 11974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا، وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی ہے، مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ فرمایا ہو کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ میں کوئی عیب نکالا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11974]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1653 ، م: 1309
حدیث نمبر: 11975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ" صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟، قَالَ: بِمِنًى" , قلت: وَأَيْنَ" صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ: بِالْأَبْطَحِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اگر آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی تو مجھے بتا دیجئے؟ انہوں نے فرمایا منیٰ میں، میں نے پوچھا کہ کوچ کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا مقام ابطح میں، پھر فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جیسے تہمارے امراء کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11975]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 386, 5850 ، م: 555
حدیث نمبر: 11976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ , وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟، قَالَ: نَعَمْ".
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11976]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 529
حدیث نمبر: 11977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: فَأَيْنَ الصَّلَاةُ؟، قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ؟".
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم جو کچھ کرتے تھے، آج مجھے ان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا، لوگوں نے کہا کہ نماز کہاں گئی؟ (ہم نماز تو پڑھتے ہیں) فرمایا کہ یہ تم بھی جانتے ہو کہ تم نماز میں کیا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11977]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5846 ، م: 2101
حدیث نمبر: 11978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11978]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
حدیث نمبر: 11979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيَ الْمَوْتَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11979]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6338 ، م: 2678