مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. حَدِیث سفیَانَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الثَّقَفِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 15416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: بَعْدَكَ، قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ".
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15416]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 38
حدیث نمبر: 15417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي أَمْرًا فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ , قَالَ:" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيَّ شَيْءٍ أَتَّقِي؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ".
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15417]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 38
حدیث نمبر: 15418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أخبرنا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ , ثُمَّ اسْتَقِمْ" قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْبَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا" , قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: بِطَرْفِ لِسَانِ نَفْسِه.
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15418]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 38، وهذا إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 15419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخَبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ: أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ:" قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ" قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ" هَذَا".
سیدنا سفیان بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجیے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کر و کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! کس چیز سے بچوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15419]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن ماعز