مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
263. حَدِيثُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ مِنْ الشَّامِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ: فَدَعَاهُ فَقَالَ:" أَلَمْ تُحْسِنْ الطُّهُورَ أَوْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا آنِفًا" , قَالَ: بَلَى , قَالَ:" اذْهَبْ فَهِيَ كَفَّارَتُكَ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اسی دوران ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں حدود اللہ میں سے ایک حد کو پہنچ گیا ہوں لہذا مجھے سزاد یجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرض کیا: تین مرتبہ اسی طرح ہوا اس کے بعد نماز کھری ہوئی نماز سے فراغت کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر آیا اور اپنی بات دہرائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قریب بلا کر پوچھا کہ کیا تم اچھی طرح وضو کر کے ابھی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوئے اس نے کہا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ پھر یہی تمہارے گناہ کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16014]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 16015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرْيَةِ ثَلَاثٌ: أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ، وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَنْ يَقُولَ: قَدْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَسْمَعْ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر ے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16015]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16016
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَجَلَسَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدِ يَمِينَ وَاثِلَةَ، فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ: وَاحِدَةٌ أَسْأَلُكَ عَنْهَا , قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ، وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ، أَيْ حَسَنٌ , قَالَ وَاثِلَةُ : أَبْشِرْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ".
حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا واثلہ کے ساتھ ابوالاسود جرشی کے پاس ان کے مرض الموت میں گیا سیدنا واثلہ سلام کر کے بیٹھ گئے ابواسود نے ان کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی آنکھوں اور چہرے پر ملنے لگے کیونکہ سیدنا واثلہ نے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی سیدنا واثلہ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھتاہوں ابواسود نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے انہوں نے پوچھا کہ تمہارا اپنے رب کے متعلق کیساگمان ہے ابواسود نے سر کے اشارے سے جواب دیا اچھا ہے انہوں نے فرمایا: پھر خوش ہو جاؤ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتاہوں جو وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے اب جو چاہے میرے ساتھ جیسا مرضی گمان رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16016]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16017
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , وَهِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، أنهما سمعاه من حيان أبي النضر يُحَدِّثُ بِهِ، وَلَا يَأْتِيَانِ عَلَى حِفْظِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16017]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے اللہ فلاں بن فلاں تیری ذمہ داری میں اور تیرے پڑوس کی رسی میں ہے اس لئے اسے قبر کی آزمائش اور عذاب جہنم سے محفوظ فرما تو ہی اہل وفا حق ہے اے اللہ اسے معاف فرما اس پر رحم فرما تو ہی معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16018]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَالتَّقْوَى هَاهُنَا" وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ، قَالَ:" وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان عزت اور مال قابل احترام ہیں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے تنہاچھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا: اور پھر فرمایا: انسان کے بدترین ہو نے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16019]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إسماعيل بن عياش ضعيف عن غير الشاميين، وشيخه يحيى من أهل الجزيرة، وبين يحيي وعبدالوهاب انقطاع