🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

288. حَدِيثُ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعًا، وَكَانَتْ تَبِيعُ وَتَصَدَّقُ، فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ يَوْمًا: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ. فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ".
سیدنا رائط جو کاریگر خاتون تھیں اور تجارت کر تی تھیں اور اللہ کے راستہ میں صدقہ بھی کر تی تھیں نے ایک دن اپنے شوہر سیدنا عبداللہ سے کہا تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے دوسروں پر صدقہ کرنے سے روک رکھا ہے اور میں تمہاری موجودگی میں دوسروں پر کچھ صدقہ نہیں کر پاتی سیدنا عبداللہ نے ان سے فرمایا: واللہ اگر اس میں تمہارے لئے کوئی ثواب نہ ہو تو میں اسے پسند نہیں کر وں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کاریگر عورت ہوں تجارت کر تی ہوں اس کے علاوہ میرا اور میرے شوہر اور بچوں کا گزارے کے لئے کوئی دوسراذریعہ بھی نہیں ہے تو ان لوگوں نے مجھے صدقہ سے روک رکھا ہے اور میں ان کی موجودگی میں کچھ صدقہ نہیں کر پاتی میں ان پر جو کچھ خرچ کر تی ہوں کیا مجھے اس پر کوئی ثواب ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ کر تی رہو کیونکہ تم ان پر جو بھی خرچ کر و گی تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16085]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ , فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي , فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرَهَا، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ، فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ".
سیدنا رائط جو کاریگر خاتون تھیں اور تجارت کر تی تھیں اور اللہ کے راستہ میں صدقہ بھی کر تی تھیں نے ایک دن اپنے شوہر سیدنا عبداللہ سے کہا تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے دوسروں پر صدقہ کرنے سے روک رکھا ہے اور میں تمہاری موجودگی میں دوسروں پر کچھ صدقہ نہیں کر پاتی سیدنا عبداللہ نے ان سے فرمایا: واللہ اگر اس میں تمہارے لئے کوئی ثواب نہ ہو تو میں اسے پسند نہیں کر وں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کاریگر عورت ہوں تجارت کر تی ہوں اس کے علاوہ میرا اور میرے شوہر اور بچوں کا گزارے کے لئے کوئی دوسراذریعہ بھی نہیں ہے تو ان لوگوں نے مجھے صدقہ سے روک رکھا ہے اور میں ان کی موجودگی میں کچھ صدقہ نہیں کر پاتی میں ان پر جو کچھ خرچ کر تی ہوں کیا مجھے اس پر کوئی ثواب ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ کر تی رہو کیونکہ تم ان پر جو بھی خرچ کر و گی تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16086]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں