مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی مَسعود البَدرِیِّ الاَنصَارِیِّ
حدیث نمبر: 17073
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لِرَجُلٍ أَوْ أَحَدٍ لَا يُقِيمُ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17073]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17074
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَبُو أُمِّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَاهُمْ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاخشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17074]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 2237، م: 1567
حدیث نمبر: 17075
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا؟ قَالَ: " بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ”لوگوں کا خیال ہے“ والے جملے کے متعلق کیا سنا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17075]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
حدیث نمبر: 17076
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ ، قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقَ مِنْ نَفْسِي، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَكَبَّرَ، فَرَكَعَ، فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفُضَلَتْ أَصَابِعُهُ عَلَى سَاقَيْهِ، وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ، وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَاسْتَوَى جَالِسًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ، فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى .
سالم البراد (جو ایک قابل اعتماد راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاوں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی، رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے، اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر سیدھے کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17076]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا يُطِيلُ بِنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِيكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ بِهِمْ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ وَرَاءَهُ الْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کر دیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے، اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17077]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
حدیث نمبر: 17078
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ:" لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ، وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا، وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ"، فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ: سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: " أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا، وَتَنْصُرُونَا، وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ"، قَالُوا: فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ:" لَكُمْ الْجَنَّةُ"، قَالُوا: فَلَكَ ذَلِكَ ..
عامر کہتے ہیں کہ (بیعت عقبہ کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک گھاٹی کے قریب ستر انصارمی افراد کے پاس درخت کے نیچے پہنچے اور فرمایا کہ تمہارا متکلم بات کر لے لیکن لمبی بات نہ کرے کیونکہ مشرکین نے تم پر اپنے جاسوس مقرر کر رکھے ہیں, اگر انہیں پتہ چل گیا تو وہ تمہیں بدنام کریں گے، چنانچہ ان میں سے ایک صاحب یعنی ابوامامہ بولے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! پہلے آپ اپنے رب، اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں مطالبات پیش کریں، پھر یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ پر اور آپ پر ہمارا کیا بدلہ ہو گا اگر ہم نے آپ کے مطالبات پورے کر دئیے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کے لئے تو میں تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ صرف اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم ہمیں ٹھکانہ دو، ہماری مدد کرو اور ہماری حفاظت بھی اس طرح کرو جیسے اپنی حفاظت کرتے ہو؟ انہوں نے پوچھا کہ اگر ہم نے یہ کام کر لیے تو ہمیں کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں جنت ملے گی“، انہوں نے کہا کہ پھر ہم نے آپ سے اس کا وعدہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17078]
حکم دارالسلام: مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17079]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 17080
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: مَا سَمِعَ الشِّيبُ وَلَا الشُّبَّانُ خطبة مثلها.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی جوان یا بوڑھے نے ایسا خطبہ نہیں سنا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17080]
حکم دارالسلام: مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17081
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو : أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَقَامَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، وَجَافَى يَدَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ، حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ"، قَالَ:" فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، أَوْ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سالم البراد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ یہ کہہ کر انہوں نے تکبیر کہی، رکوع میں اپنی دونوں ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھا، انگلیوں کے جوڑ کھلے رکھے اور ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر رکوع سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو پیٹ سے جدا رکھا، پھر سر اٹھا کر سیدھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ قائم ہو گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا اور چاروں رکعتیں اسی طرح پڑھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17081]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17082
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قُلْتُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پہ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17082]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 55، م: 1002