🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

466. بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17029
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ، وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ قَالَ عُثْمَانُ: رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17029]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17030
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا، ويَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، صَلُّوا فِيهَا" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17030]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع زيد بن خالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17031
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى . وَيَزِيدُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ يَزِيدُ: أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ، قَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ، فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں ایک مسلمان فوت ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو، یہ سن کر لوگوں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17031]

حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17032
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ" وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْلَا أَنْ يُشَقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر شفقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نماز عشاء ایک تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا اور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17032]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1895، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17033
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ" .، وَيَزِيدُ قَالَ: أَنْبَأَنَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ".
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامانِ جہاد مہیا کرے یا اس پیچھے اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17033]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: «من فطر صائما» فحسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17034
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْعَنْهُ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک مرغے پر اس کے چیخنے کی وجہ سے لعنت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17034]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله وإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں بارش کے اثرات میں نماز فجر پڑھائی۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17035]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4147، م: 71
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17036
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: مَوْلًى لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : مَوْلَى الْفَارِسِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، فَمَشَى إِلَيْهِ، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ، وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ، لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا .

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى سعيد الأعمى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17037
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ؟ قَالَ:" هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ؟ قَالَ: " وَمَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا، وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا؟ قَالَ: " اعْلَمْ وِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، أَوْ اسْتَمْتِعْ بِهَا" ، أَوْ نَحْوَ هَذَا.

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17038
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أن رجلا جاء إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ، وَبِماِئَةِ شَاةٍ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَأَمَّا ابْنُكَ، فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِئَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ"، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ: يُقَالُ لَهُ: أُنَيْسٌ:" قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلْ امْرَأَةَ هَذَا، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اس کی بیوی کو رجم کیا جائے، اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، وہ لونڈی اور بکریاں تجھے واپس دے دی جائیں گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمیانیس سے فرمایا: انیس اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17038]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2314، م: 1697
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں