مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی مَسعود البَدرِیِّ الاَنصَارِیِّ
حدیث نمبر: 17063
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ الْبَدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَ هِجْرَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ، أَوْ إِلَّا بِإِذْنِهِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القرأت ہو, اگر سب لوگ قرأت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امام نہ کرائے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17063]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 673
حدیث نمبر: 17064
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُوكَ بِهَا، فَقَالَهَا لَهُ ثَلَاثًا، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: أَيْ رَبِّ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ فِي الدُّنْيَا، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَتَجَاوُزُ عَنْهُ، وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: نَحْنُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي، فَغُفِرَ لَهُ"، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ." وَرَجُلٌ آخَرُ أَمَرَ أَهْلَهُ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحَرِّقُوهُ، ثُمَّ يَطْحَنُوهُ، ثُمَّ يَذُرُّوه فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ أَعْصَى لَكَ مِنِّي، فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي" فَغُفِرَ لَهُ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو بارگاہ خداوندی میں پیش کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کے ثواب کی مجھے تجھ سے امید ہو، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا کہ پروردگار! تو نے مجھے دنیا میں مال و دولت کی فراوانی عطاء فرمائی تھی، اور میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، میری عادت تھی کہ میں لوگوں سے درگزر کرتا تھا، مالدار پر آسانی کر دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کے حقدار تو تجھ سے زیادہ ہم ہیں, فرشتو! میرے بندے سے بھی درگزر کرو چنانچہ اس کی بخشش ہو گئی، اس حدیث کو سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے اسی طرح سنی ہے۔ ایک اور آدمی تھا جس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا کر پیس لیں، اور جس دن تیز ہوا چل رہی ہو تو اس کی راکھ کو بکھیر دیں، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، اس شخص کے تمام اعضاء کو پروردگار کی بارگاہ میں جمع کیا گیا اور اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے ایسا کرنے پہ کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے عرض کی کہ پروردگار! مجھ سے زیادہ تیرا نافرمان بندہ کوئی نہ تھا، میں نے سوچا کہ شاید اس طرح بچ جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فرشتو! میرے بندے سے درگزر کرو، یہ حدیث سن کر بھی حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17064]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17065
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام) کے خوف سے میں فجر کی نماز سے رہ جاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کر دیتے ہیں، تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کمزور بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17065]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 90، م: 466
حدیث نمبر: 17066
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ . ح وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " الْإِيمَانُ هَاهُنَا"، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ:" عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ".
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”ایمان یہاں ہے، یاد رکھو! دلوں کی سختی اور درشتی ان متکبروں میں ہوتی ہے، جو اونٹوں کے مالک ہوں، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“یعنی ربعیہ اور مضر نامی قبائل میں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17066]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4387 ، م: 51
حدیث نمبر: 17067
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، فَقَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" . وَقَرَأْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا یوں کہا کرو «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17067]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17068
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17068]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 5009، م: 807، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 17069
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَوْ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ، وَإِنَّكُمْ وُلَاتُهُ، وَلَنْ يَزَالَ فِيكُمْ حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ شَرَّ خَلْقِهِ فَيَلْتَحِيكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ" .
سیدنا ابومسعور رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ حکومت تمہارے ہاتھ میں رہے گی اور تم اس پر حاکم ہو گے اور اس وقت تک رہو گے جب تک بدعات ایجاد نہیں کرتے، جب تم ایسا کرنے لگو گے تو اللّٰہ تم پر اپنی مخلوق میں سے بدترین کو بھیج دے گا جو تمہیں لکڑی کی طرح چھیل دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17069]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على وهم واختلاف فيه ، فقول شعبة: «عن عبيد الله بن القاسم، أو القاسم بن عبيدالله» وهم منه ، والصواب: عن القاسم، عن عبيد الله
حدیث نمبر: 17070
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی، اور کاہنوں کی مٹھائی کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17070]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2237، م: 1567
حدیث نمبر: 17071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17071]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم نخعي لم يسمع أبا عبدالله الجدلي
حدیث نمبر: 17072
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ، فَقَالَ:" إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل سامنے آ کر بیٹھ گیا، ہم بھی وہاں موجود تھے، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، جب نماز میں ہم آپ پر درود پڑھیں تو کس طرح پڑھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سوال پر اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم سوچنے لگے کہ اگر یہ شخص سوال نہ کرتا تو اچھا ہوتا۔ تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ پر درود پڑھا کرو تو یوں کہو۔ «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17072]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن