مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
472. حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
حدیث نمبر: 17181
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ انسان نے اللّٰہ کی نگاہوں میں اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ محبوب کوئی کھانا نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17181]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 2072، بقية - وإن دلس هنا - متابع
حدیث نمبر: 17182
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَالْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ: سِتَّ خِصَالٍ: أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ: وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ: يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ" ..
سیدنا مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں شہید کے بہت سے مقامات ہیں، اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف کر دیا جاتا ہے، جنت میں اسے اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذاب قبر سے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور اسے فزع اکبر (بڑی گھبراہٹ) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک ایک یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا، بہتر حورعین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17182]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير إسماعيل بن عياش، فقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 17183
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17183]
حکم دارالسلام: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17184
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" .
سیدنا مقدام رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللّٰہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17184]
حکم دارالسلام: حديث حسن، بقية يدلس تدليس التسوية، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17185
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَعَنْ مَيَاثِرِ النُّمُورِ" .
سیدنا مقدام رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو ریشم، سونے اور چیتے کی کھالوں کے پالان استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17185]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد
حدیث نمبر: 17186
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثُ طَعَامٍ، وَثُلُثُ شَرَابٍ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم نے پیٹ سے زیادہ بدترین کسی برتن کو نہیں بھرا، حالانکہ ابن آدم کے لئے تو اتنے لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں، اگر زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانا ہو، ایک تہائی پانی ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17186]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع
حدیث نمبر: 17187
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اپنی ماؤں کے ساتھ، اپنے باپوں کے ساتھ اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17187]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17188
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا، دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا پھر سر کا اور کانوں کا ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھو لیے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17188]
حکم دارالسلام: حديث ضعيف لنكارة فيه، فالصحيح أن المضمضة والاستنشاق إنما تكونان عقب غسل اليدين
حدیث نمبر: 17189
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَتُرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ:" هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ" ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.
ایک مرتبہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں؟ یہ سنتے ہی سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ اسے عظیم مصیبت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے (رضی اللہ عنہ)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17189]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، وقد عنعن
حدیث نمبر: 17190
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاسِطًا يَدَيْهِ، يَقُولُ: " مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان نے اللہ کی نگاہوں میں اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ محبوب کوئی کھانا نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17190]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن