مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
472. حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
حدیث نمبر: 17201
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ، وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ الثَّمَنَ، فَقِيلَ لَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَتَبِيعُ اللَّبَنَ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ! فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ" .
سیدنا ابوبکر بن ابی مریم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو دودھ بیچا کرتی تھی، جو پیسے حاصل ہوتے تھے وہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ لے لیتے تھے، کسی نے ان سے کہا: سبحان اللہ! دودھ وہ بیچے اور پیسوں پر آپ قبضہ کر لیں؟۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! تو اس میں حرج کیا ہے؟، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں دینار اور درہم کے علاوہ کوئی چیز نفع نہیں دے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17201]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر ولانقطاعه ، أبوبكر لم يدرك المقدام بن معدي كرب
حدیث نمبر: 17202
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ، فَهُوَ دَيْنٌ لَهُ، فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا، چاہے تو ادا کر دے چاہے تو چھوڑ دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17202]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17203
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَارِثِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ، وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی بوجھ چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ داری میں ہے، اور جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہو گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہوتا ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، اور میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں، میں اس کا وارث ہوں اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17203]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 17204
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: بُدَيْلٌ الْعُقَيْلِيُّ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ"، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ:" إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ، وَيَرِثُهُ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی بوجھ چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ داری میں ہے، جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مر جائے وہ اس کے ورثاءکا ہو گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہوتا ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، اور میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں، میں اس کا وارث ہوں اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17204]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 17205
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْأَبْرَشُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ لَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلَا جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قدیم! تم کامیاب ہو گئے اگر تم اس حال میں فوت ہوئے کہ نہ حکمران تھے نہ ٹیکس وصول کرنے والے اور نہ چوہدری۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17205]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف صالح بن يحيي