مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17291
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ"، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ، فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ" .
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17291]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه ، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17292
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار دن کے بعد بائع (بچنے والا) کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17292]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
حدیث نمبر: 17293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ مِن حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا، وَقَالَ: " إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی قبا پہن رکھی تھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17293]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 375، م: 2075، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 17294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ" يَعْنِي: الْعَشَّارَ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ٹیکس وصول کرنے میں ظلم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17294]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن إسحاق مدلس، وعنعنه
حدیث نمبر: 17295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: خَالَفَهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: عَنْ أَبِي بَصْرَةَ . حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہذا تم انہیں ابتداء میں سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف وعلیکم کہنا۔ عبدالحمید بن جعر اور ابن لہیعہ نے مذکورہ حدیث میں ابوعبدالرحمن کی بجائے ابوبصرہ کا نام لیا ہے۔ گزشتہ حدیث ابوعاصم سے بھی مروی ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مراد اس سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17295]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن من حديث أبى بصرة الغفاري، وهذا الإسناد قد أخطأ فيه ابن إسحاق، فجعله من مسند أبى عبدالرحمن الجهني
حدیث نمبر: 17296
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ، إِذْ قَالَ لِي:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ؟ قَالَ: قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِي، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَُ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ، وَيُقَالَ: ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17296]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17297
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ" .
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17297]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17298
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أُثْكِلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ، فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو عُشَّانَةَ مَرَّةً:" فِي سَبِيلِ اللَّهِ" وَلَمْ يَقُلْهَا مَرَّةً أُخْرَى وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین حقیقی بچے فوت ہوجائیں اور وہ اللہ کے سامنے ان پر صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17298]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 17299
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ، فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ، فَإِنَّهُ لَمْ يُتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ" يَعْنِي: الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں تم ان سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو، کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17299]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17300
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ" . وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلَّمَهُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان میں، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17300]
حکم دارالسلام: حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله الأزرق، وقد أضطرب فى إسناده