🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17361
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: " تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَاقْتَنُوهُ"، قَالَ قَبَاث: وَحَسِبْتُهُ قَالَ:" وَتَغَنُّوا بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ مِنَ الْعُقُلِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17361]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17362
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ . ح وهَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفُّوا بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17362]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، خ: 2721، م: 1418، فالحديث بإسناده الثاني صحيح، وأما بالإسناد الأول فهو حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَخِي أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّةِ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17363]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: «ثم رفع نظره إلى السماء» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن عم زهرة بن معبد، وهذا الحديث لم يسمعه عقبة من النبى صلى الله عليه وسلم ، إنما سمعه من عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17364
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو مُصْعَبٍ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى سَائِرِ الْقُرْآنِ بِسَجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا، فَلَا يَقْرَأْهُمَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17364]

الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح بن هاعان عن عقبة خاصة مقال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17365
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17365]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، مشرح بن هاعان عن عقبة ضعيف، وابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17366
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَإِنَّكَ لَا تَقْرَأُ بِمِثْلِهِمَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا معوذتین پڑھا کرو کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17366]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17367
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17367]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مشرح بن هاعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17368
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: كَانَ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَافِظًا، وَكَانَ يُحَدِّثُنَا، وَكَانَ يَحْفَظُ، كَتَبْتُ عَنْهُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حمد بن خالد حافظ الحدیث تھے، وہ ہمیں حدیث بھی پڑھاتے تھے اور درزی کا کام بھی کرتے تھے، میں نے اور یحییٰ بن معین نے ان سے حدیثیں لکھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17368]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17369
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا" . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَشْتَهِيهِ، حَتَّى إِنِّي لَأُحِبُّهُ فِي عَلَاقَةِ سَوْطِي، وَفِي شِرَاكِ نَعْلِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مرتے وقت جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو تو اس کے لئے جنت کی خوشبو حلال ہے اور نہ ہی وہ اسے دیکھ سکے گا، ایک قریشی آدمی جس کا نام ابو ریحانہ تھا نے عرض کی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری کا کوڑا جوتے کا تسمہ عمدہ ہو، (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17369]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، ولابهام الرجل الذى يحدث عن عقبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17370
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلْنَ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ أَوْ لَا يُرَى مِثْلَهُنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17370]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں