مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17331
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطا کردی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17331]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهعية ولجهالة مولي عقبة بن عامر، وقد انقلب اسمه على ابن لهيعة فسماه أبا كثير، وإنما هو: كثير أبو الهيثم
حدیث نمبر: 17332
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو كَثِيرٌ ، قَالَ: لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، قَالَ: دَعْهُمْ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَلَا أَدْعُو عَلَيْهِمْ الشُّرَطُ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: وَيْحَكَ، دَعْهُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مِنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
حضرت عقبہ کے آزاد کردہ غلام ابو کثیر کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں ان کے لئے پولیس کو نہ بلوا لوں، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ارے بھئی! انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطاء کردی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17332]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17333
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ" أَوْ قَالَ:" يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ"، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً، أَوْ بَصَلَةً، أَوْ كَذَا.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان حساب کتاب اور فیصلہ شروع ہوجائے، راوی ابو الخیر کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے تھے جس میں کوئی چیز خواہ میٹھی روٹی یا پیاز ہی ہو، صدقہ نہ کرتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17333]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17334
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ المُؤمِن؟ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ، احْرُسْ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ" . قَالَ: ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي، قَالَ: ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ، وَالْإِنْجِيلِ، وَالزَّبُورِ، وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ، لَا تَنْسَاهُنَّ، وَلَا تَبِيتَ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ"، قَالَ: فَمَا نَسِيتُهُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ:" لَا تَنْسَاهُنَّ" وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ . قَالَ عُقْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مومن کی نجات کس طرح ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ ملاقات ہوئی، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی تین سب سے بہتر سورتیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، کیوں نہیں! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت اخلاص، سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ! انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چنانچہ میں اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ کچھ عرصے بعد پھر ملاقات ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقبہ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17334]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، م: 814، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد الألهاني، ومعان بن رفاعة حسن الحديث إلا عند المخالفة
حدیث نمبر: 17335
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَكَانَ رَجُلًا يُحِبُّ الرَّمْيَ، إِذَا خَرَجَ خَرَجَ بِي مَعَهُ فَدَعَانِي يَوْمًا، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: تَعَالَ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا حَدَّثَنِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِي صَنَعْتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ" . وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا" .
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17335]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17336
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ، فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اس نعمت کے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17336]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ يَخْرُجُ فَيَرْمِي كُلَّ يَوْمٍ، وَكَانَ يَسْتَتْبِعُهُ، فَكَأَنَّهُ كَادَ أَنْ يَمَلَّ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَاحِبَهُ الَّذِي يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالَّذِي يُجَهِّزُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَرْمِي بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17337]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد الأزرق، وقد وهم فيه معمر، فقال: عن زيد بن سلام، والصواب: عن أبى سلام
حدیث نمبر: 17338
وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا" . وَقَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ ابْنُ آدَمَ فَهُوَ بَاطِلٌ، إِلَّا ثَلَاثًا: رَمْيَهُ عَنْ قَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ" ، قَالَ: فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا، مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ، وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17339
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَاتَّبَعَهُ نَاسٌ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: انْزِلُوا فَصَلُّوا، فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ، فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ، إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ" .
عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے ہو لئے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ساتھ چلنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف پایا ہے، اس لئے ہم آپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور آپ کو سلام کرنے کے لئے آئے ہیں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہیں پر اترو اور نماز پڑھو، چنانچہ سب نے اتر کر نماز پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، اسے اجازت ہوگی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، اس میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17339]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن كان عبدالرحمن بن عائذ سمعه من عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17340
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ، يَقُولُ: أَتَيْنَا أَبَا الْخَيْرِ فَقَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ، كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17340]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، لكن بلفظ: «كفارة النذر كفارة اليمين» ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع