🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

561. بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17811
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ". قَالَ: قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا إِذًا". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ عُمَرُ" قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا .
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر پر مجھے امیر بنا کر بھیجا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ، میں نے کہا کہ مردوں میں سے؟ فرمایا ان کے والد، میں نے پوچھا کہ پھر کون؟ فرمایا عمر، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17811]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3662، م: 2384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17812
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَن عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَاحْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ، فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ. قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ" يَا عَمْرُو، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ، فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ، وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرو! تم نے ناپاکی کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ سولم) جس رات میں مجھ پر غسل واجب ہوا، وہ انتہائی سرد رات تھی اور مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا اور میں نے اللہ کا قول (وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) اپنی جانوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے، اس لئے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور کچھ کہا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17812]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن لهيعة سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وقد اختلف فيه على عبدالرحمن بن جبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17813
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ شُفَيٍّ . أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَإِنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا" . قَالَ عَمْرٌو: فَوَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَاجَعْتُهُ بِمَا أُرِيدُ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ.
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے اس شرط پر بیعت کرتا ہوں کہ میرے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیاء کرتا تھا، اس لئے میں نے انہیں کبھی آنکھیں بھر کر نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اپنی خواہش میں ان سے کوئی تکرار کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17813]

حکم دارالسلام: الشطر الأول منه حسن، وهذا الإسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقيس بن سمي- على الصواب- ليس بمشهور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17814
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَن أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ". قَالَ الرَّجُلُ: أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِينُ الْكَلَامِ، وَبَذْلُ الطَّعَامِ، وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ الخُلُقِ". قَالَ الرَّجُلُ: أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمِ اللَّهَ عَلَى نَفْسِكَ" .
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا اللہ پر ایمان و تصدیق، اللہ کے راستہ میں جہاد اور حج مبرور، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ نے بہت سی چیزیں بیان فرما دی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کلام میں نرمی، کھانا کھلانا، سہل ہونا اور اچھے اخلاق سب سے افضل عمل ہیں، اس نے کہا کہ میں صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں، نبی نے فرمایا تو پھر جاؤ اور اپنی ذت پر تہمت نہ لگنے دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17814]

حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17815
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هَانِئٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلنَّاسِ:" مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا هُوَ، فَأَزْهَدُ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا، وَأَمَّا أَنْتُمْ، فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17815]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17816
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ وَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ وَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17816]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7352، م: 1716
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17817
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ:" لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا، وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ". قَالَ: فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ: غَيْرُ يَحْيَى: وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ.
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو، واللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ساری زندگی کوئی رات ایسی نہیں آئی جس میں ان پر مالی بوجھ مالی فراوانی سے زیادہ نہ ہو اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرض لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ یحییٰ تین دنوں کا ذکر کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17817]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17818
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، عَن مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ: مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنْ السَّبُعِ، وَمِنْ الْغَرَقِ، وَمِنْ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ" .
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے، ناگہانی موت، سانپ کے ڈسنے سے، درندے کے حملے سے، ڈوب کر مرنے سے، جل کر مرنے سے، کسی چیز پر گرنے سے، کسی چیز کے گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے مرنے سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17818]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ومالك بن عبدالله مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17819
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَن بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقُرْآنُ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ، فَقَدْ أَصَبْتُمْ، فَلَا تَتَمَارَوْا فِيهِ، فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، لہذا تم جس حرف کے مطابق پڑھو گے، صحیح پڑھو گے، اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17819]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17820
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِنْ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ" . قَالَ يَزِيدُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي بِهِ أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور خوب احتیاط و اجتہاد سے کام لے اور صحیح فیصلہ کرے تو اسے دہرا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود غلطی ہوجائے تو پھر بھی اسے اکہرا اجر ملے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17820]

حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 7352، م: 1716
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں