🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

790. حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19423
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، فَقَالَ: " فَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ" .
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے (اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو اور یہ نکاح صحیح نہیں ہے) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا، نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلا دیا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا، میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھر یہی کہا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جب کہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19423]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 88
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19424
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ، قَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ" .
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے (اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو اور یہ نکاح صحیح نہیں ہے) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا، نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلا دیا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا، میں دائیں جانب سے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19424]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 88
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19425
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فِي الْبَيْتِ، فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي وَالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، قَالَ: وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ .
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو ہاتھوں، ٹہنیوں اور جوتیوں سے مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19425]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2316
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19426
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، قَالَ: " ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ" ..
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا ہے اس لئے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19426]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1221
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19427
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1221
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں