مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
790. حديث عقبة بن الحارث رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19426
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، قَالَ: " ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ" ..
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا ہے اس لئے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19426]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1221
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عقبة بن الحارث القرشي