مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
811. وَمِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20128
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20128]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20129
وَعَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " صلوۃ وسطی " سے نماز عصر مراد ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20129]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20130
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ، فَهِيَ لَهُ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20130]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 20131
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20131]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يصرح
حدیث نمبر: 20132
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20132]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه ، وهو مدلس
حدیث نمبر: 20133
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20133]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: تحت حديث: 5472
حدیث نمبر: 20134
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ: أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ ، مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ، ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ، فَقَدْ خَالَفَ.
عاصم کہتے ہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کے بعد خود ہی نبیذ کی اجازت دی تھی منذر ابوحسان حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو حجاج کی مخالفت کرتا ہے وہ خلاف کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20134]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لأجل منذر أبى حسان
حدیث نمبر: 20135
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ , قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ، فَلَمْ يَزَلْ القوم يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الظُّهْرِ، يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ، وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُونهُ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ؟ قَالَ: أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے ایک قوم آکر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین پر تو کوئی اس میں کچھ نہیں ڈال رہا البتہ اگر آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے تو اور بات ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20135]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، لكنه متابع
حدیث نمبر: 20136
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدًا لَهُ أَبَقَ، وَإِنَّهُ نَذَرَ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ، فَقَالَ الْحَسَنُ , حَدَّثَنَا سَمُرَةُ , قَالَ:" قَلَّمَا خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَ فِيهَا بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَى فِيهَا عَنِ الْمُثْلَةِ" .
حسن کہتے ہیں ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس کا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور اس نے منت مانی ہے کہ اگر وہ اس پر قادر ہوگیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دے گا حسن نے جواب دیا کہ ہمیں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20136]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان حميد حفظ فيه تصريح الحسن البصري بسماعه من سمرة، فقد خالفه يزيد التستري فقال: عن الحسن، عن سمرة ولم يذكر سماعا
حدیث نمبر: 20137
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ" .
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20137]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن لم يصرح بسماعه