مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
837. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20355
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ، فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: مَوْتِي، وَالدَّجَّالِ، وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِيهِ" .
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا تین مرتبہ فرمایا میری موت، دجال اور حق پر ثابت قدم خلیفہ کے قتل سے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20355]
حکم دارالسلام: حديث حسن، ليس هذا الحديث بمصر من حديث يحيى بن أيوب لكنه
حدیث نمبر: 20356
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ" فَقَالَ رَجُلٌ: فَخِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالشَّامِ، عَلَيْكَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيَسْقِ مِنْ غُدُرِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ" ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّتَيْنِ: فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ.
حضرت عبداللہ بن حوالہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک لشکر شام میں ہوگا اور ایک یمن میں ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ جب ایساہو تو میرے لئے کسی ایک کو ترجیحا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کرلو جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ یمن چلا جائے اور اس کے کنوؤں کا پانی پیے کیونکہ اللہ نے شام اور اہل شام کا میرے لئے ذمہ لیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20356]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مكحول لم يسمع هذا الحديث من أين حوالة