🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

896. حَدِيثُ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20730
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:" هَلْ تَعْرِفُونَهَا؟" قَالَ: فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ، وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً" .
حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20730]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالكريم، وحبيب بن مخنف مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20731
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٌٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو رَمْلَةَ ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَوْحٌ: الْغَامِدِيُّ قَالَ: وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ" .
حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے لوگو ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے راوی نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20731]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي رملة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں