مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
918. حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 20799
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ، وَالْحُيَّضَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَالدَّعْوَةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ نوجوان لڑکیوں اور ایام والیوں کو بھی نماز عید کے لئے نکلنا چاہیے تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا کے موقع پر شریک ہوسکیں البتہ ایام والی عورتیں نمازیوں کی صفوں سے دور رہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20799]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 351، م: 890
حدیث نمبر: 20800
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: أَخَذَ ابْنُ سِيرِينَ غُسْلَهُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: غَسَّلْنَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،: " فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَهَا بِالسِّدْرِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَنْجَتْ وَإِلَّا فَخَمْسًا، فَإِنْ أَنْجَتْ وَإِلَّا فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ"، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا أَنَّ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سَبْعٌ .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کو غسل دے رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اسے تین یا پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ طاق عدد میں غسل دو اگر مناسب سمجھو تو پانی میں بیری کے پتے ملالو۔ ہم نے سات کا عدد مناسب سمجھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20800]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1253، م: 939
حدیث نمبر: 20801
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، وَأَنْ نَجْعَلَ فِي الْغَسْلَةِ الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ سِدْرٍ وَكَافُورٍ" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور غسل دینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اسے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ طاق عدد میں غسل دو اگر مناسب سمجھو تو پانی میں بیری کے پتے ملالو اور سب سے آخر میں اس پر کافور لگا دینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20801]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1203، م: 939، يزيد قد خالف جمهور أصحاب ابن سيرين، فقد رووه بهذا اللفظ عن أم عطية دون واسطة، نعم قد رواه ابن سيرين مرة أخرى عن أخته حفصة عن أم عطية