مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
919. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20812
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبِ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ دوڑے تھے اور مبارک پنڈلیوں پر گوشت کم تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20812]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20813
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ قَائِمًا، وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ، وَيَقْرَأُ آيَاتٍ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20813]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20814
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَنْ يَزَالَ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا کوئی مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20814]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20815
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ، قَالَ: فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ لِغَيْرِهِمْ، فَرَخَّصَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا"، قَالَ: فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ، أَوْ سَنَتِهِمْ .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری کی حالت کی وجہ سے اور اس اونٹنی نے انہیں ایک سال تک بچائے رکھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20815]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وهذا الحديث قد تفرد به سماك، فهو ممن لا يحتمل تفرده فى مثل هذه الأبواب
حدیث نمبر: 20816
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ:" لَمْ يَمُتْ"، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ مَاتَ؟" قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینے کے لئے آیا کہ یارسول اللہ فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مرا نہیں ہے اس نے تین مرتبہ آکر اس کی خبر دی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسے مرا ہے؟ اس نے بتایا کہ اس نے چھری سے اپنا سینہ چاک کردیا ہے (خودکشی کرلی) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20816]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20817
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ، لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ، حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا كُلُّهُمْ" ثُمَّ خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ أَبِي أَقْرَبَ إِلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، مَا الَّذِي خَفِيَ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والانقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکتا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20817]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، كَيْفَ كَانَ يَخْطُبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً، ثُمَّ يَقُومُ" .
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح خطبہ دیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور پھر کھڑے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20818]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْولُ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ" ، قَالَ سِمَاكٌ: سَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ" فَاحْذَرُوهُمْ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20819]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2923، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 20820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ؟ قَالَ:" كَانَ يَقْعُدُ فِي مَقْعَدِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
سماک نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول مبارک تھا انہوں نے فرمایا طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20820]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 670
حدیث نمبر: 20821
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ" .
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20821]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2919، وهذا إسناد حسن