مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
924. حَدِيثُ أَبِي الْمُنْذِرِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21084
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وََكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " عَلِيٌّ أَقْضَانَا، وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ كَثِيرًا مِنْ لَحْنِ أُبَيٍّ، وَأُبَيٌّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ لِشَيْءٍ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ: مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فریا علی ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں اور ابی ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں اور ہم ابی کے لہجے میں بہت سی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں اور ابی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لہذا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ " ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21084]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4481
حدیث نمبر: 21085
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِت ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: " عَلِيٌّ أَقْضَانَا، وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ، وَأُبَيٌّ يَقُولُ: أَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدَعُهُ، وَاللَّهُ، يَقُولُ: مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا سورة البقرة آية 106" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فریا علی ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں اور ابی ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں اور ہم ابی کے لہجے میں بہت سی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں اور ابی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لہذا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ " ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21085]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4481
حدیث نمبر: 21086
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِئَتَيْنِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلِيٌّ أَقْضَانَا، وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا، وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ، وَأُبَيٌّ، يَقُولُ: لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسر منبرخطبہ دیتے ہوئے فرمایا علی ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں اور ابی ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں اور ہم ابی کے لہجے میں بہت سی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں اور ابی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لہذا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا حالانکہ اس کے بعد بھی قرآن نازل ہوتا رہا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21086]
حکم دارالسلام: صحيح، خ: 4481، وهذا إسناد ضعيف، سويد بن سعيد فيه ضعف، لكنه توبع