مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 21742
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ , أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ , فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ , ثُمَّ بَالَ مَاءً , قَالَ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ , ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الصَّلَاةَ , قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ , ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ , وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى , ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ , قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ , قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ بتائیے کہ جس رات آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف بنے تھے آپ نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہم مغرب کے لئے اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور لوگ آرام کرنے لگے میں نے پوچھا کہ جب صبح ہوئی تو پھر آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور میں قریش کے لوگوں میں پیدل چل رہا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21742]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1669، م: 1280
حدیث نمبر: 21743
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رِبَا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" قَالَ: يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا، وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21743]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21744
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ , عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ , عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى يَطْلُبُ مَالًا لَهُ , وَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ , فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ , وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ رَقَقْتَ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ , فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " إِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کا روزہ اتنی پابندی سے کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21744]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة ومولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقة وشواهده
حدیث نمبر: 21745
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ , حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ , عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ , قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ , قَالَ: فَصَبَّحْنَاهُمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ , فَكَانَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِذَا أَقْبَلَ الْقَوْمُ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ عَلَيْنَا , وَإِذَا أَدْبَرُوا كَانَ حَامِيَتَهُمْ , قَالَ: فَغَشِيتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , قَالَ: فَلَمَّا غَشِينَاهُ , قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ وَقَتَلْتُهُ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟!" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا , مِنَ الْقَتْلِ , فَكَرَّرَهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کردیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21745]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4269، م: 96
حدیث نمبر: 21746
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخبرنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى أُمَّتِي مِنَ النِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کے مردوں پر عورتوں سے زیادہ شدید فتنہ کوئی نہیں چھوڑا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21746]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5096، م: 2740
حدیث نمبر: 21747
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ , وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21747]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6764، م: 1614
حدیث نمبر: 21748
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى , إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح رونما ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے برستے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21748]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1878، م: 2885
حدیث نمبر: 21749
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ , فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ , فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا , فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ , فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَهُمْ وَأَعَنْتُهُ , ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا گھاٹی میں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور پیشاب کیا راوی نے پانی بہانے کی تعبیر اختیار نہیں کی پھر میں نے ان پر پانی ڈالا اور ہلکا سا وضو کیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21749]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وقد خولف سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 21750
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ" . قَالَ: قَالَ: فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ مَا تَقُولُ أَشَيءً وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" .
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچاجائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جو بات کہتے ہیں یہ بتائیے کہ اس کا ثبوت آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ چیز نہ تو مجھے کتاب اللہ میں ملی ہے اور نہ ہی میں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے البتہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21750]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21751
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ سَعْدًا عَنِ الطَّاعُونِ , فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا عَذَابٌ , أَوْ كَذَا أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى نَاسٍ قَبْلَكُمْ , أَوْ طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , فَهُوَ يَجِيءُ أَحْيَانًا وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا , فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" .
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21751]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218