🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21752
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّه؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ , فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ؟" , ثُمَّ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ , وَلَا الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کل ہم ان شاء اللہ کہاں پڑاؤ کریں گے؟ یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی گھر چھوڑا ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21752]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4282، م: 1351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو غُصْنٍ , حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ: لَا يُفْطِرُ , وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ , حَتَّى لَا يَكَادَ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ , إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا , وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ , وَتُفْطِرَ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ , إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا , قَالَ:" أَيُّ يَوْمَيْنِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ , قَالَ: " ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ" , قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ:" ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ , وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ , فَأُحِبُّ أَنْ ترْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ لوگ کہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ نہیں کریں گے اور بعض اوقات اتنے تسلسل کے ساتھ ناغہ فرماتے کہ یوں محسوس ہوتا کہ اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں، البتہ ہفتہ میں دو دن ایسے تھے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں روزے سے ہوتے تو بہت اچھا، ورنہ ان کا روزہ رکھ لیتے تھے اور کسی مہینے میں نفلی روزے اتنی کثرت سے نہیں رکھتے تھے جتنی کثرت سے ماہ شعبان میں رکھتے تھے یہ دیکھ کر ایک دن میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ بعض اوقات اتنے روزے رکھتے ہیں کہ افطار کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے ہیں کہ روزے رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے، البتہ دو دن ایسے ہیں کہ اگر آپ کے روزوں میں آجائیں تو بہتر ورنہ آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سے دو دن؟ میں نے عرض کی پیر اور جمعرات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دو دنوں میں رب العالمین کے سامنے تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ جتنی کثرت سے میں آپ کو ماہ شعبان کے نفلی روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجب اور رمضان کے درمیان اس مہینے کی اہمیت سے لوگ غافل ہوتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21753]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَذَكَرَ قِصَّةً , وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا , وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ , فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ , وَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے سارے کونوں میں دعاء فرمائی لیکن وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ باہر آکر خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ ہے قبلہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21754]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 398، م: 1330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21755
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ:" لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ مَعِي إِلَى الْمَدِينَةِ , فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْمَتَ فَلَا يَتَكَلَّمُ , فَجَعَلَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ يَصُبُّهَا عَلَيَّ , أَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مرض الوفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو میں اور میرے ساتھ کچھ لوگ مدینہ منورہ آگئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے اور کسی سے بات نہیں کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور مجھ پر پھیر دیئے میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعاء فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21755]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21756
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخبرنا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ , وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ , فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ , وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: أَنْ تُصِيبَ قَادِمَةَ الرَّحْلِ , وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو لگام سے پکڑ کر کھینچنے لگے حتٰی کہ اس کے کان کجاوے کے اگلے حصے کے قریب آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے لوگو! اپنے اوپر سکون اور وقار کو لازم پکڑو، اونٹوں کو تیز دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21756]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21757
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وحدثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رِبَا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21757]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21758
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ نَعُودُهُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ" , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَاتَ.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کی عیادت کرنے کے لئے گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں یہودیوں سے محبت کرنے سے منع کرتا تھا وہ کہنے لگا کہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نفرت کرلی (بس وہی کافی ہے) یہ کہہ کر کچھ عرصے بعد وہ مرگیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21758]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21759
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21759]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن على لم يسمع من أسامة شيئا، ولم يلقه، والمسعودي مختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21760
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفْعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ:" رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ" , قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , فَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حتى أََتى المُزدلِفةَ , فجَمَعَ فيها بين الصلاتين المغربِ والعِشاء الآخرةِ .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21760]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1666، م: 1286، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21761
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ:" رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ" , قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ , فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ , مَا يَقُولُ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَ , ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ قَالَ: قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَقَالَ:" الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ , فَنَزَلَ بِهَا , فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے یہاں تک کہ اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سورایوں کو بٹھایا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21761]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں