مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضَّلَنِي رَبِّي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ , أَوْ قَالَ: عَلَى الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ , قَالَ: أُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً , وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا , فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ , وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ , وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَقْذِفُهُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي , وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ" ..
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22137]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22137M
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَيَّارٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ بِحَدِيثٍ آخَرَ , وَيُقَالُ: سَيَّارٌ الشَّامِيُّ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22137M]
حدیث نمبر: 22138
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي , وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي" , سَبْعَ مِرَارٍ ..
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22138]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22139
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامُ بَنُ يَحْيَى , وَحَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22139]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، هذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22140
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا ثَالِثًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ , فَسَأَلْتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسَلِّمَنَا وَيُغَنِّمَنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ" , قَالَ: فَمَا رُئِيَ أَبُو أُمَامَةَ , وَلَا امْرَأَتُهُ , وَلَا خَادِمُهُ إِلَّا صُيَّامًا , قَالَ: فَكَانَ إِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِمْ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ , قِيلَ: اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ , نَزَلَ بِهِمْ نَازِلٌ , قَالَ: فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَرْتَنَا بِالصِّيَامِ , فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِيهِ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمُرْنِي بِعَمَلٍ آخَرَ , قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" ..
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22140]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22141
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا , فَأَتَيْتُهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ"..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22141]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22142
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فطر
حدیث نمبر: 22143
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ , يَقُولُ: يَقُولُ النَّاسُ: مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَعْنِي: مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ زَاهِدٌ " إِنَّمَا الزَّاهِدُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الَّذِي أَتَتْهُ الدُّنْيَا , فَتَرَكَهَا" .
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے لوگوں کا خیال ہے کہ مالک بن دینار بڑا پرہیزگار ہے اصل پرہیز تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں جن کے پاس دنیا آئی اور پھر بھی انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22143]
حکم دارالسلام: هذا الأثر فى زهد عمر بن عبدالعزيز، ولا تعلق له بمسند أبى أمامة، و إسناده ضعيف، حماد بن واقد متفق على ضعفه وفطر بن حماد مختلف فيه
حدیث نمبر: 22144
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ سَالِمٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ , وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَهَا , فَأَعْظِمْ ذَلِكَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ کلمات کہہ لے اسے عظمت نصیب ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی مخلوقات کے بھرپور ہونے کے بقدر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں آسمان و زمین کی چیزوں کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں آسمان و زمین کے بھرپور کے بقدر، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس کی تقدیر کے احاطے میں آنے والی چیزوں کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں احاطہ تقدیر میں آنے والی چیزوں کے بھرپور ہونے کے بقدر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر چیز کی تعداد کے برابر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر چیز کے بھرپور ہونے کے بقدر اور اسی طرح اللہ کی پاکیزگی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22144]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22145
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي الْمَشَّاءِ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ الْمَشَّاءِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَحَوَّلَ خِيَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ , وَيَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو الْمشاء يُقَالُ لَهُ: لَقِيطٌ , وَيَقُولُونَ: ابْنُ الْمشاء , وَأَبُو الْمشاء.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہوجائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22145]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو المشاء لقيط بن المشاء يخطئ ويخالف