مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23072
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ شَبيب بن أَبي رَوْحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، فَقَرَأَ فِيهِمَا، فَالْتُبسَ عَلَيْهِ فِي الْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " مَا بالُ رِجَالٍ يَحْضُرُونَ مَعَنَا الصَّلَاةَ بغَيْرِ طُهُورٍ! أُولَئِكَ الَّذِينَ يَلْبسُونَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا، مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ، فَلْيُحْسِنْ الطُّهُورَ" .
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23072]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23073
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بنِ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بنَ كُلَيْب النَّهْدِيَّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ: " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23073]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23074
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبي قَتَادَةَ ، وأبى الدهماء , قَالَا: أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبادِيَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بدَّلَكَ اللَّهُ بهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ" .
ابوقتادہ اور ابودھماء کہتے ہیں کہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس پہنچے اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے وہ باتیں سکھانا شروع کردیں جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں اور فرمایا تم جس چیز کو بھی اللہ کے خوف سے چھوڑ دو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر چیز عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23074]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23075
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بنُ نَابلٍ ، عَنْ أَبي الزُّبيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جیسے قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23075]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبى الزبير. وصحابيه المبهم هو جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 23076
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بنِ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَوْبانَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ، وَالطِّيب، وَالسِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر تین چیزیں حق ہیں جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک، خوشبو لگانا بشرطیکہ اس کے پاس موجود بھی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23076]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23077
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: كُنَّا بهَذَا الْمِرْبدِ بالْبصْرَةِ، قَالَ: فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ، أَوْ قِطْعَةُ جِرَاب، فَقَالَ: هَذَا كِتَاب كَتَبهُ لِي النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبو الْعَلَاءِ: فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ، فَإِذَا فِيهِ:" بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَاب مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبنِي زُهَيْرِ بنِ أُقَيْشٍ: إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ، وَأَدَّيْتُمْ الزَّكَاةَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبيِّ وَالصَّفِيَّ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بأَمَانِ اللَّهِ، وَأَمَانِ رَسُولِهِ" . قَالَ: قُلْنَا: قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" .
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اونٹوں کی منڈی میں مطرف کے ساتھ تھا کہ ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا وہ کہنے لگا کہ تم میں سے کوئی شخص پڑھنا جانتا ہے؟ میں نے کہا ہاں! اور اس سے وہ چمڑے کا ٹکڑا لے لیا اس پر لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کے نام جو عکل کا ایک قبیلہ ہے وہ اگر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں مشرکین سے جدا ہوجاتے ہیں اور مال غنیمت میں خمس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور انتخاب کا اقرار کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہیں۔ " ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے سینے کا کینہ ختم ہوجائے تو اسے چاہئے کہ ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23077]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23078
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ رَجَاءِ بنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: " لَا تَنْقَطِعُ مَا جُوهِدَ الْعَدُوُّ" .
ایک قاصد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک دشمن سے قتال جاری رہے گا اس وقت تک ہجرت ختم نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23078]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عاصم ليس بذاك القوي، وجده: حيوة الكندي لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 23079
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ عَلَى أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاتَيْنِ،" فَقَبلَ مِنْهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبول اسلام کے لئے حاضر ہوئے تو یہ شرط لگائی کہ وہ صرف دو نمازیں پڑھیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط قبول کرلی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23079]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 23080
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ ابنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ أَنَّ " نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَخْصُوفَةً" .
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ ہمیں ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چمڑے کے پیوند زدہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23080]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده غير محفوظ، والمحفوظ: عن ابن الشخير عن أخيه مطرف بن عبدالله عن الأعرابي، أى بواسطة: عن أخيه
حدیث نمبر: 23081
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعُوا بيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي" .
عبدالرحمن بن ابی عمرہ (رح) کے چچا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نام اور کنیت کو اکٹھا نہ کیا کرو (کہ ایک ہی آدمی میرا نام بھی رکھ لے اور کنیت بھی) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23081]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح