🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ، فَقَالَ: " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَكَلَّمْ بكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا، وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23498]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وجهالة عثمان بن جبير، ومع جهالته فقد اضطرب فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23499
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْبحْرِ وَعَلَيْنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ، وَمَعَنَا أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ، فَمَرَّ بصَاحِب الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبيَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبكِي، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: فَرَّقُوا بيْنَهَا وَبيْنَ وَلَدِهَا , قَالَ: فَأَخَذَ بيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا، فَانْطَلَقَ صَاحِب الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبدِ اللَّهِ بنِ قَيْسٍ، فَأَخْبرَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بيْنَهُ وَبيْنَ الْأَحِبةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ابوعبدالرحمن حبلی (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کردیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23499]

حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة وحيي بن عبدالله، وقد توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23500
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ عَبدِ رَبهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنِي أَبو سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ، وَسَيَضْرِبونَ عَلَيْكُمْ فِيهَا بعُوثًا، يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبعْثَ، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبائِلِ يَقُولُ: مَنْ أَكْفِيهِ بعْثَ كَذَا وَكَذَا، أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ" ..
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہوجائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چناچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23500]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23501
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ هُو ابنُ برِّيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ الطَّائِيِّ ، أَخْبرَنِي ابنُ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ أَنَّهُ كَتَب إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب يُخْبرُهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23501]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن أخي أبى أيوب، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23502
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَبو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَاءَ يَعْبدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِب الْكَبائِرَ، فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ"، وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبائِرُ، قَالَ:" الْإِشْرَاكُ باللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ" .
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23502]

حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23503
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بنِ عُبيْدٍ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ" .
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23503]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23504
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بقَصْعَةٍ فِيهَا بصَلٌ، فَقَالَ:" كُلُوا"، وَأَبى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ" .
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23504]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23505
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو قَبيلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ نَاشِرٍ مِنْ بنِي سَرِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّ رَبكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بيْنَ سَبعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بغَيْرِ حِسَاب، وَبيْنَ الْخَبيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي"، فَقَالَ لَهُ بعْضُ أَصْحَابهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخَبئُ ذَلِكَ رَبكَ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبرُ، فَقَالَ:" إِنَّ رَبي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعِينَ أَلْفًا وَالْخَبيئَةُ عِنْدَهُ" ، قَالَ أَبو رُهْمٍ: يَا أَبا أَيُّوب، وَمَا تَظُنُّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بأَفْوَاهِهِمْ، فَقَالُوا: وَمَا أَنْتَ وَخَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ أَبو أَيُّوب: دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبرْكُمْ عَنْ خَبيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ، بلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ: إِنَّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: رَب مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبهُ، أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ.
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہوجائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کرلوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے تھوڑی دیر بعد " اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق کیا ہے؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23505]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وعبدالله بن ناشر لا يعرف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23506
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَبدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَاجْتَنَب الْكَبائِرَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ"، أَوْ" دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَسَأَلَهُ مَا الْكَبائِرُ، فَقَالَ:" الشِّرْكُ باللَّهِ، وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ" .
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23506]

حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه من أجل بقية بن الوليد، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23507
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَعَهُمْ أَبو أَيُّوب، فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبي أَيُّوب، قَالَ: فَدَخَلَ أَبو أَيُّوب يَوْمًا، فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بصَلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَرْسَلَ بهِ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبو أَيُّوب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ فِيهَا بصَلًا"، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبصَلُ؟ قَالَ:" بلَى، فَكُلُوهُ، وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ" ، وَقَالَ حَيْوَةُ:" إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ".
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23507]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل بقية بن الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں