مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23528
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، يَذْكُرُ فِيهِ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23528]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6237 ، م: 2560
حدیث نمبر: 23529
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ، وَابنُ عَباسٍ، وَقَالَ مَرَّةً: امْتَرَى فِي الْمُحْرِمِ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى أَبي أَيُّوب : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا، مُقْبلًا وَمُدْبرًا" ، وَصَفَهُ سُفْيَانُ.
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23529]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1840 ، م: 1205
حدیث نمبر: 23530
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بنِ بشِيرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23530]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة حجاج، وهو مدلس، ولم يسمع من الزهري، وقول الحجاج : "حكيم بن بشير عن أبى أيوب" خطأ صوابه : الزهري، عن أيوب بن بشير الأنصاري عن الحكيم بن حزام
حدیث نمبر: 23531
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23531]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة
حدیث نمبر: 23532
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بنِ مِنْجَاب ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَدْمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدْمَنْتَهَا؟ قَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى تُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ: قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ ان چاروں رکعتوں میں قرأت فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے پوچھا کہ کیا ان میں دو رکعتوں پر سلام بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23532]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه ، وقرع الضبي فيه ضعف
حدیث نمبر: 23533
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23533]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1164
حدیث نمبر: 23534
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب غَازِيًا، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ، أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ يَشْتَبكَ النُّجُومُ" ..
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23534]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23535]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا، وَلْيُشَرِّقْ وَلْيُغَرِّب" قَالَ أَبو أَيُّوب: فَلَمَّا أَتَيْنَا الشَّامَ، وَجَدْنَا مَقَاعِدَ تَسْتَقْبلُ الْقِبلَةَ، فَجَعَلْنَا نَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23536]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23537
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بعَثَ بفَضْلِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، قَالَ: فَأُتِيَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ، فَبعَثَ بهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ رِيحَهُ" ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23537]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2053