🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1082. حَدِيثُ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَوْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23638
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ" .
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں وہ کلی یاد ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کی تھی اور پانی اس ڈول سے لیا تھا جو ان کے کنوئیں سے نکالا گیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23638]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وجعله من حديث الزهري عن محمود بن لبيد وهم، وقد تفرد به عبدالرزاق، والصواب أنه من حديث الزهري عن محمود بن الربيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23639
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: " اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کردی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23639]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23640
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ) فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ (لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8)، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ: الْمَاءُ وَالتَّمْرُ، وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ، فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ، قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم " پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23640]

حکم دارالسلام: حديث حسن على اختلاف فى إسناده على محمد بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23641
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ صَبَرَ، فَلَهُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ، فَلَهُ الْجَزَعُ" .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23641]

حکم دارالسلام: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں