🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1104. حَدِيثُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23713
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ هَذَا لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ! قَالَ: قُلْتُ:" لَئِنْ قُلْتُمْ ذَاكَ، لَقَدْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا، أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، أَوْ يَكْتَفِيَ أَحَدُنَا بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23713]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 262
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23714
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحِي أَنْ يَبْسُطَ الْعَبْدُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ خَيْرًا، فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ" ..
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیاء آتی ہے کہ اس کا کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کوئی سوال کرے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23714]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو هنا موقوف إلا أنه قد روي أيضا مرفوعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23715
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثلِه، قَالَ يَزِيدُ: سَمُّوهُ لِي، قَالُوا: هُوَ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: قَالَ أَبِي: يَعْنِي: جَعْفَرَ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23715]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، الرجل المبهم الذى روى عنه يزيد بن هارون هو جعفر بن ميمون، وهذا يعتبر به، وهو متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23716
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ، فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ؟ فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ؟" فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتَّ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ" .
ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23716]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23717
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَقَالَ سَلْمَانُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ" .
ابومسلم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23717]

حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شريح، وأبي مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23718
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟" قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبَاكُمْ، قَالَ:" لَكِنِّي أَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، لَا يَتَطَهَّرُ الرَّجُلُ فَيُحْسِنُ طُهُورَهُ، ثُمَّ يَأْتِي الْجُمُعَةَ، فَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا اجْتُنِبَتْ الْمَقْتَلَةُ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جب تک کہ لڑائی سے بچتا رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23718]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل قريع الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23719
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قِيلَ لِسَلْمَانَ : قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ! قَالَ: أَجَلْ، " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23719]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 262
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23720
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت وہ ہے کہ جس کے ذریعے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور تک اپنی اولاد پر ترس کھاتے ہیں اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے مؤخر کردی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23720]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2753
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23721
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: عَرَضَ أَبِي عَلَى سَلْمَانَ أُخْتَهُ فَأَبَى، وَتَزَوَّجَ مَوْلَاةً لَهُ، يُقَالُ لَهَا: بُقَيْرَةُ، قَالَ: فَبَلَغَ أَبَا قُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَحُذَيْفَةَ شَيْءٌ، فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ فِي مَبْقَلَةٍ لَهُ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ مَعَهُ زَبِيلٌ فِيهِ بَقْلٌ، قَدْ أَدْخَلَ عَصَاهُ فِي عُرْوَةِ الزَّبِيلِ، وَهُوَ عَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ؟ قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ عَجُولا سورة الإسراء آية 11، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا دَارَ سَلْمَانَ، فَدَخَلَ سَلْمَانُ الدَّارَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ أَذِنَ فَإِذَا نَمَطٌ مَوْضُوعٌ عَلَى بَابٍ وَعِنْدَ رَأْسِهِ لَبِنَاتٌ، وَإِذَا قُرْطَانِ، فَقَالَ: اجْلِسْ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَاتِكَ الَّذِي تُمَهِّدُ لِنَفْسِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُهُ، قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يُحَدِّثُ بِأَشْيَاءَ يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَضَبِهِ لِأَقْوَامٍ، فَأُسْأَلُ عَنْهَا فَأَقُولُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، وَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ ضَغَائِنُ بَيْنَ أَقْوَامٍ، فَأُتِيَ حُذَيْفَةُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ سَلْمَانَ لَا يُصَدِّقُكَ وَلَا يُكَذِّبُكَ بِمَا تَقُولُ، فَجَاءَنِي حُذَيْفَةُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ ابْنَ أُمِّ سَلْمَانَ! قُلْتُ: يَا حُذَيْفَةُ ابْنَ أُمِّ حُذَيْفَةَ، لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا خَوَّفْتُهُ بِعُمَرَ تَرَكَنِي، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَنَا، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً أَوْ سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَيْرِ كُنْهِهِ، فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِ صَلَاةً" .
عمرو بن ابی قرہ کندی (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی بہن سے نکاح کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور ان کی آزاد کردہ باندی " جس کا نام بقیرہ تھا " سے نکاح کرلیا پھر ابو قرہ کو معلوم ہوا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ رنجش ہے تو وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے معلوم ہوا کہ وہ اپنی سبزیوں کے پاس ہیں ابوقرہ ادھر روانہ ہوگئے راستے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی جن کے ساتھ ایک ٹوکری بھی سبزی سے بھری ہوئی تھی انہوں نے اپنی لاٹھی اس ٹوکری کی رسی میں داخل کر کے اسے اپنے کندھے پر رکھا ہوا تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ! کیا آپ کے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی رنجش ہے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " انسان بڑا جلد باز ہے " اور وہ دونوں چلتے رہے حتیٰ کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ گھر کے اندرچلے گئے اور سلام کیا پھر ابوقرہ کو اندر آنے کی اجازت دی وہاں دروازے کے پاس ایک چادر پڑھی ہوئی تھی سرہانے کچھ اینٹیں رکھی ہوئی تھیں اور دو بالیاں پڑی ہوئی تھیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی باندی کے بستر پر بیٹھ جاؤ جس نے اپنے آپ کو تیار کرلیا تھا انہوں نے بات کا آغاز اور فرمایا کہ حذیفہ بہت ساری ایسی چیزیں بیان کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں کچھ لوگوں سے کہہ دیتے تھے لوگ مجھ سے اس کے متعلق پوچھتے تو میں ان سے کہہ دیتا کہ حذیفہ ہی زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں میں لوگوں کے درمیان نفرت بڑھانے کو اچھا نہیں سمجھتا لوگ حذیفہ کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ سلمان آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تکذیب، تو ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ام سلمان کے بیٹے سلمان! میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ اے ام حذیفہ کے بیٹھے حذیفہ! تم باز آجاؤ ورنہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھوں گا جب میں نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوف دلایا تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں سو جس بندہ مؤمن پر میں نے لعنت ملامت کی ہو یا اس کے حق میں سخت سست کہا ہو تو اے اللہ! اسے اس کے حق میں باعث رحمت بنا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23721]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن صح سماع عمرو بن أبى قرة من سلمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23722
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ، فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ، أُكْرِمُكَ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ" ..
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے دور غلامی میں ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسے کھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ کھایا دوبارہ میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے جو میں آپ کے احترام میں آپ کے لئے لایا ہوں کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے بھی اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23722]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں