🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1115. حَدِيثُ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23792
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ، فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ، غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ:" قَدْ، قَدْ" حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، " هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ؟" فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا؟" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ" ، قَالَ: فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ فَقَالَ: أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ، فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، قَالَ الْوَلِيدُ: وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ، وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا وَرَدُوهُ قَبْلَهُ، فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ.
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو راستے میں منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کردیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کا راستہ اختیار کیا ہے اس راستے پر کوئی نہ جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے اور پیچھے حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے کہ اچانک کچھ سواریوں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آگیا جنہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ پیچھے تھے وہ ان سواریوں کے چہروں پر مارنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرے کا احساس ہوتے ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سواری روکنے کے لئے کہا اور نیچے اتر آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے اترنے لگے اسی دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا عمار! کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اکثر سواریوں کو تو میں نے پہچان لیا ہے لیکن لوگوں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں ان کا ارادہ معلوم ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائیں اور اوپر سے نیچے دھکیل دیں۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو سخت سست کہا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گھاٹی میں کتنے آدمی تھے؟ اس نے کہا چودہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو وہ پندرہ ہوتے ہیں جن میں سے تین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور قرار دیا تھا جن کا کہنا یہ تھا کہ بخدا! ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ تھا؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بارہ آدمی جو باقی بچے وہ دنیوی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن دونوں موقعوں پر اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں۔ ولید کہتے ہیں کہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے اسی غزوے کے متعلق بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جب پانی کی قلت کا علم ہوا تو " لوگوں سے فرما دیا تھا اور منادی نے یہ اعلان کردیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص پانی پر نہ جائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو کچھ لوگوں کو وہاں موجود پایا جو ان سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23792]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23793
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقُلْتُ: لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ بَيْنِهِمْ، مَنْ هُمْ؟ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدةٌ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً" .
عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوار موڈ میں پایا میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچی چناچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالطفیل! وہ لوگ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ملامت کی تھی وہ کون تھے؟ ابھی انہوں نے مجھے ان کے متعلق بتانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی اہلیہ سودہ نے کہا کہ اے ابوالطفیل! رک جائیے آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے اگر کسی مسلمان کو میں نے کوئی بد دعا دی ہو تو اسے اس شخص کے حق میں تزکیہ اور رحمت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23793]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23794
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ:" لَمَّا بُنِيَ الْبَيْتُ كَانَ النَّاسُ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ، فَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَنُودِيَ: لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ، فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادر اوڑھ لی۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23794]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23795
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ" قَالَ: قِيلَ: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ"، أَوْ قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد نبوت تو نہیں ہوگی البتہ " مبشرات " ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! " مبشرات " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23795]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23796
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، وَسُئِلَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: فَهَلْ كَلَّمْتَهُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى أَتَى دَارَ قَوْرَاءَ، فَقَالَ: " افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ"، فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ"، فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ، فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ:" قُمْ يَا غُلَامُ"، فَقَامَ الْغُلَامُ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ،" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ الْغُلَامُ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ الْغُلَامُ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا" مَرَّتَيْنِ .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! سائل نے پوچھا کہ کیا بات بھی کی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں البتہ میں نے فلاں جگہ جاتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت ان کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کشادہ مکان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا جب دروازہ کھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ ہی اندر چلا گیا وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چادر اٹھاؤ صحابہ رضی اللہ عنہ نے چادر اٹھائی تو اس کے نیچے سے ایک کانا لڑکا نکلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے! کھڑا ہوجا وہ لڑکا کھڑا ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے لڑکے! کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس لڑکے نے کہا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23796]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل مهدي بن عمران، وقد جاء نحو هذا الحديث فى ابن صياد أحاديث عديدة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23797
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي، قَالَ: قُلْتُ: وَرَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ؟ قَالَ:" كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقْصِدًا" .
جریری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ وہ کہنے لگے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والا میرے علاوہ کوئی شخص باقی نہیں بچا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گورا خوبصورت اور جسم معتدل تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23797]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2340
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23798
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، " يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اس وقت میں بالکل نوجوان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23798]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1275 ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23799
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ : " أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں اور میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23799]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23800
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبر مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا، فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ، فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَيُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ، فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ، خَمِّرْ عَوْرَتَكَ، فَلَمْ يُرَى عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لارہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادراوڑھ لی۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23800]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23801
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا، وَرَدَتْ عَلَيَّ وَغَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ، وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک علاقے میں ہوں اور میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ سفید بکریاں آئی ہیں تھوڑی دیر بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے جن میں کچھ کمزوری تھی اللہ انہیں معاف کر دے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ ان کے ہاتھ میں ڈول بن گیا اور انہوں نے حوض بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کردیا میں نے عمر سے زیادہ اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عقبری آدمی نہیں دیکھا اور میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور سفید بکریوں سے مراد اہل عجم ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23801]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں