🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1133. حَدِيثُ امْرَأَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُنْتَبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا، وَقَالَ:" انْتَبِذْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا وَحْدَهُ" .
معبد بن کعب اپنی والدہ سے " جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رکھی تھی " نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنایا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23932]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23933
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّهِ : أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ؟ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ، هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي" .
عبداللہ بن کعب اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں ام مبشر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ اپنے حوالے سے کسے متہم قرار دیتے ہیں؟ میں تو اسی کھانے کو متہم قرار دیتی ہوں جو خیبر میں آپ نے اور آپ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے تناول فرمایا تھا دراصل ان کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہوگیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو متہم قرار نہیں دیتا اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میری رگیں کٹ رہی ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23933]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فيه على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں