مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1134. مُسْنَدُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ، وَكَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِيَةَ عَلَى الدَّرْبِ، فَأُصِيبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ فَضَالَةُ، وَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ حَتَّى وَارَاهُ، فَلَمَّا سَوَّيْنَا عَلَيْهِ حُفْرَتَهُ، قَالَ: أَخِفُّوا عَنْهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ" .
ثمامہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم کی طرف نکلے وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقام " درب " کے عامل تھے ہمارا ایک چچازاد بھائی اس دوران شہید ہوگیا حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر پر آکر کھڑے ہوئے جب اس کا جسم مٹی سے چھپ گیا اور انہوں نے دیکھا کہ ہم نے اس کی قبر برابر کردی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اسے برابر ہی رکھنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23934]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ كُنْتَ تَصُومُهُ! قَالَ:" أَجَلْ وَلَكِنْ قِئْتُ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23935]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين أبى مرزوق و فضالة بن عبيد
حدیث نمبر: 23936
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ، وَعَلَى ذَلِكَ الْجَيْشِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فَضَالَةُ : خَفِّفُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ" .
ثمامہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم کی طرف نکلے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے برابر ہی رکھنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23936]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23937
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ حَدَّثَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِلَ هَذَا"، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اس نے اللہ کا ذکر کیا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے جلد بازی سے کام لیا پھر اسے اور دوسروں سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ لے تو پہلے اپنے رب کی تعریف وثناء کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام پڑھے اس کے بعد جو چاہے دعاء مانگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23937]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23938
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ، خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْخَصَاصَةِ، وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَأَحْبَبْتُمْ لَوْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً" ، قَالَ فَضَالَةُ: وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے تو کچھ لوگ جو " اصحاب صفہ میں سے ہوتے تھے " بھوک کی وجہ سے کھڑے کھڑے گرجاتے تھے اور دیہاتی لوگ کہتے تھے کہ یہ دیوانے ہوگئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر فرماتے تھے اس حال میں کہ ان کی طرف متوجہ ہوتے " اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ اللہ کے یہاں تمہارے لئے کیا نعمتیں ہیں تو تمہاری خواہش ہوتی کہ تمہارے اس فقروفاقہ میں مزید اضافہ کردیا جائے ان دنوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23938]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23939
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: أخبرنا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ تُبَاعُ وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا جس میں سونے اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے یہ مال غنیمت تھا جسے فروخت کیا جارہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار پر لگے ہوئے سونے کے متعلق حکم دیا تو اسے الگ کرلیا گیا پھر فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23939]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة حيوة، م: 1591 وأما قرينه ابن لهيعة فسيئ الحفظ
حدیث نمبر: 23940
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23940]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23941
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ،: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ، بُعِثَ عَلَيْهَا" ، قَالَ حَيْوَةُ: يَقُولُ: رِبَاطٌ، حَجٌّ، أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23941]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23941
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه الطَّالَقَانِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: " يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَائِمِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ ، مِثْلَهُ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوارپیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23941]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23942
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام: إسناده صحيح