مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1135. حَدِيثُ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23970
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ أَبُو الْخَطَّابِ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ : يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، قَالَ: فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا عَمَّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ" ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْئًا يَنْشَئُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، وَسَفْكَ الدَّمِ.
شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے چھ چیزوں کا خوف ہے بیوفوقوں کی حکومت، انصاف کا فروخت ہونا، کثرت سے شرطیں لگانا قطع رحمی، ایسی نسل کی افزائش جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالے گا، خون ریزی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23970]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النهاس بن قهم، ولانقطاعه، فإن شدادا لم يسمع من عوف
حدیث نمبر: 23971
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ قَالَ:" ادْخُلْ كُلُّكَ"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، فَقَالَ لِي: يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ، " أَعْدِدْ سِتًّا قَبْلَ السَّاعَةِ: مَوْتُ نَبِيِّكُمْ، خُذْ إِحْدَى، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مَوْتٌ يَأْخُذُكُمْ تُقْعَصُونَ فِيهِ كَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ، ثُمَّ تَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْمَالُ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا، ثُمَّ يَأْتِيكُمْ بَنُو الْأَصْفَرِ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23971]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3176، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هشام بن يوسف، وقد توبع ، ورواية هشام عن عوف مرسلة
حدیث نمبر: 23972
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، قَالَ: دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ، فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ: أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ، فَقَالَ عَوْفٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ" .
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23972]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 23973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، قَالُوا: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟! أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا" ، قَالَ: بَلَى، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23973]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النهاس ابن قهم، ولانقطاعه، شداد لم يسمع من عوف
حدیث نمبر: 23974
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ ذِي الْكَلَاعِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ: أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ" .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23974]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23975
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ، فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنَ النَّارِ، وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سمجھ میں آئی اے اللہ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23975]
حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 963
حدیث نمبر: 23976
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ، فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ، قَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي"، قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ" ، قَالَ: وَكُنَّا نَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَلَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ، هِيَ الْكَرَاكِيُّ.
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23976]
حکم دارالسلام: اسناده حسن
حدیث نمبر: 23977
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَارَ بِهِمْ يَوْمَهُمْ أَجْمَعَ، لَا يَحُلُّ لَهُمْ عُقْدَةً، وَلَيْلَتَهُ جَمْعَاءَ لَا يَحُلُّ عُقْدَةً، إِلَّا لِصَلَاةٍ، حَتَّى نَزَلُوا أَوْسَطَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَرَقَبَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعَ رَحْلَهُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا إِلَّا نَائِمًا، وَلَا بَعِيرًا إِلَّا وَاضِعًا جِرَانَهُ نَائِمًا، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ فَنَظَرْتُ حَيْثُ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحْلَهُ، فَلَمْ أَرَهُ فِي مَكَانِهِ، فَخَرَجْتُ أَتَخَطَّى الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ إِلَى النَّاسِ، ثُمَّ مَضَيْتُ عَلَى وَجْهِي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، فَسَمِعْتُ جَرَسًا فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَالْأَشْعَرِيِّ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِذَا هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الرَّحَا، فَقُلْتُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الصَّوْتِ، قَالَا: اقْعُدْ اسْكُتْ فَمَضَى قَلِيلًا فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَزِعْنَا إِذْ لَمْ نَرَكَ، وَاتَّبَعْنَا أَثَرَكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقُلْنَا: نُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ:" أَنْتُمْ مِنْهُمْ"، ثُمَّ مَضَيْنَا فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، فَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي أَخْبَرَنَا بِهِ فَيُذَكِّرُونَهُ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِهِ، فَيَقُولُ:" فَإِنَّكُمْ مِنْهُمْ" حَتَّى انْتَهَى النَّاسُ فَأَضَبُّوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: اجْعَلْنَا مِنْهُمْ، قَالَ:" فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23977]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، من أجل محمد بن أبى المليح
حدیث نمبر: 23978
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أخبرنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ، فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: إِبْرَاهِيمُ: فَتُطْعِمُونِي مِنْهَا؟ فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي، فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلهَ، ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَاكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: " أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ.
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کردیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چناچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کردیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23978]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 23979
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ: قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ؟ فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قُلْتُ: كُلِّي؟ قَالَ:" كُلُّكَ"، قَالَ: فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23979]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3176، وهذا إسناد جيد