🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1135. حَدِيثُ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23980
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَقُمْتُ مَعَهُ، فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا، بِقَدْرِ قِيَامِهِ، يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ، ثُمَّ سُورَةً، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مسواک کی پھر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا اور رکوع میں " سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ " کہتے رہے پھر دوسری رکعت میں سورت آل عمران پڑھی اور اس میں بھی اسی طرح کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23980]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23981
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُرَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" لَا مَا أَقَامُوا لَكُمْ الصَّلَاةَ، أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ، وَالٍفَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہوگے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہوگے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23981]

حکم دارالسلام: إسناده جيد، م: 1855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23982
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " الْفَقْرَ تَخَافُونَ أَوْ الْعَوَزَ أَوَتُهِمُّكُمْ الدُّنْيَا؟ فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا، حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ فقروفاقہ یا تنگدستی سے ڈرتے ہو کیا تم دنیا کو اس درجہ اہمیت دیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سر زمین فارس و روم کو فتح کروا دے گا اور تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی حتیٰ کہ تمہیں میرے بعد کوئی چیز ٹیڑھا نہ کرسکے گی اگر کوئی چیز ٹیڑھا کرے گی تو وہ دنیا ہی ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23982]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23983
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ"، فَقَالَ:" مَا قُلْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا وہ فیصلہ جس کے خلاف ہوا اس نے واپس جاتے ہوئے کہا " حسبی اللہ ونعم الوکیل " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کو واپس میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا اس نے کہا کہ میں نے " حسبی اللہ ونعم الوکیل " کہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے تم عقلمندی سے کام کیا کرو پھر بھی اگر مغلوب ہوجاؤ تو اس وقت " حسبی اللہ و نعم الوکیل " کہا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23983]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بقية ، وجهالة سيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23984
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدٍ لَهُمْ، فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، " أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا يَشْهَدُونَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يُحْبِطْ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَأَسْكَتُوا مَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ:" أَبَيْتُمْ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى، آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ"، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ، فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: أَيَّ رَجُلٍ تَعْلَمُونَ فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنْكَ، وَلَا أَفْقَهُ مِنْكَ، وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ، وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ، قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ، وَقَالُوا فِيهِ شَرًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتُمْ، لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ، أَمَّا آنِفًا فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ، وَلَمَّا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ وَقُلْتُمْ، فِيهِ مَا قُلْتُمْ، فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ"، قَالَ: فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10 .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے میں بھی ہمراہ تھا یہ یہودیوں کی عید کا دن تھا ہم لوگ چلتے چلتے مدینہ میں ان کے ایک گرجا گھر میں پہنچے انہوں نے ہمارے وہاں آنے کو اچھا نہیں سمجھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ یہود! تم مجھے اپنے بارہ آدمی ایسے دکھا دو جو اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں آسمان کی اس چھت تلے جتنے یہودی رہتے ہیں اللہ سب سے اپنا وہ غضب دور فرما دے گا جو ان پر مسلط ہے لیکن وہ لوگ خاموش رہے اور ان میں سے کسی نے بھی اس کا جواب نہ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ان کے سامنے دہرائی تاہم کس نے بھی جواب نہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ کی قسم! میں ہی حاشر ہوں میں ہی عاقب ہوں، میں ہی نبی مصطفیٰ ہوں خواہ تم ایمان لاؤ یا تکذیب کرو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چل پڑے میں بھی ہمراہ تھا ہم اس کنیسے سے نکلنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے ایک آدمی نے پکار کر کہا اے محمد! رکیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اس شخص نے یہودیوں سے مخاطب ہو کر کہا اے گروہ یہود! تم مجھے اپنے درمیان کس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا بخدا! ہم لوگ اپنے درمیان آپ سے بڑھ کر کسی کو کتاب اللہ کا عالم اور فقیہہ نہیں سمجھتے اسی طرح آپ سے پہلے آپ کے آباؤ و اجدا کے متعلق بھی ہمارا یہی خیال ہے اس میں کہا کہ پھر میں اللہ کو سامنے رکھ کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو انہوں نے کہا کہ تم غلط کہتے ہو پھر اس کی مذمت بیان کرنا شروع کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو، تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی ابھی تو تم نے اس کی خوب تعریف کی ہے اور جب یہ ایمان لے آیا تو تم اس کی تکذیب کرنے لگے اور اس کے متعلق نازیبا باتیں کہنے لگے لہٰذا تمہاری بات کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اب ہم وہاں سے نکلے تو تین آدمی ہوگئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اے حبیب! آپ فرما دیجئے یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہو تم اس کا انکار کرتے رہو اور بنی اسرائیل ہی میں ایک آدمی اس کی گواہی دے اور ایمان لے آئے تو تم تکبر کرتے ہو بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23984]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23985
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" عَوْفٌ؟": فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ قَالَ:" بَلْ كُلُّكَ"، قَالَ: " اعْدُدْ يا عوف سِتًّا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ: أَوَّلُهُنَّ مَوْتِي"، قَالَ: فَاسْتَبْكَيْتُ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْكِتُنِي، قَالَ: قُلْتُ: إِحْدَى" وَالثَّانِيَةُ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ"، قُلْتُ: اثْنَيْنِ" وَالثَّالِثَةُ مُوتَانٌ يَكُونُ فِي أُمَّتِي يَأْخُذُهُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ، قُلْ: ثَلَاثًا" وَالرَّابِعَةُ فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي أُمَّتِي وَعَظَّمَهَا، قُلْ: أَرْبَعًا، وَالْخَامِسَةُ يَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى الْمِائَةَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا، قُلْ: خَمْسًا، وَالسَّادِسَةُ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ عَلَى ثَمَانِينَ غَايَةً"، قُلْتُ: وَمَا الْغَايَةُ؟ قَالَ:" الرَّايَةُ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ فِي أَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ فِي مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ" .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے گا پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے آجائیں گے اور مسلمانوں کا مرکز اس زمانے دمشق کے شہر " غوطہ " میں ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23985]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23986
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا، فَدُعِينَا، وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دَعَا بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا، فَبَقِيَتْ قِطْعَةُ سِلْسِلَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَتسقُط، ثُمَّ رَفَعَهَا وَهُوَ يَقُولُ: " كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يَكْثُرُ لَكُمْ مِنْ هَذَا!!!" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کہیں سے مال غنیمت آتا تھا تو اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے شادی شدہ کو دو حصے دیتے تھے اور کنوارے کو ایک حصے کسی قسم کے ایک موقع پر ہمیں بلایا گیا مجھے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا چناچہ اس دن بھی مجھے بلایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے دے دیئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا اس کے بعد حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں ایک حصہ عطا فرمایا آخر میں سونے کی ایک چین بچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی لاٹھی کی نوک سے اٹھاتے وہ گر جاتی تھی پھر اٹھاتے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ تمہارا اس وقت کیا عالم ہوگا جس دن تمہارے پاس ان چیزوں کی کثرت ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23986]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23987
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً إِلَى طَرَفِ الشَّامِ، فَأُمِّرَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَانْضَمَّ إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْيَرَ فَأَوَى إِلَى رَحْلِنَا، لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ إِلَّا سَيْفٌ لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ غَيْرَهُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا، فَلَمْ يَزَلْ يَحْتَلْ حَتَّى أَخَذَ مِنْ جِلْدِهِ كَهَيْئَةِ الْمِجَنِّ، حَتَّى بَسَطَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ وَقَدَ عَلَيْهِ حَتَّى جَفَّ، فَجَعَلَ لَهُ مُمْسِكًا كَهَيْئَةِ التُّرْسِ، فَقُضِيَ أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فِيهِمْ أَخْلَاطٌ مِنَ الرُّومِ وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، وَسَرْجٍ مُذَهَّبٍ وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ ذَهَبًا وَسَيْفٌ مِثْلُ ذَلِكَ، فَجَعَلَ يَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ وَيُغْرِي بِهِمْ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ يَحْتَالُ لِذَلِكَ الرُّومِيِّ حَتَّى مَرَّ بِهِ فَاسْتَقْفَاهُ، فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ بِالسَّيْفِ فَوَقَعَ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ ضَرْبًا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْفَتْحَ أَقْبَلَ يَسْأَلُ لِلسَّلَبِ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُ النَّاسُ بِأَنَّهُ قَاتِلُهُ، فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِهِ، وَأَمْسَكَ سَائِرَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَحْلِ عَوْفٍ ذَكَرَهُ، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَلْيُعْطِكَ مَا بَقِيَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَمَشَى عَوْفٌ حَتَّى أَتَى خَالِدًا، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ، قَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَهُ عَوْفٌ فَاسْتَعْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا خَالِدًا وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ يَا خَالِدُ أَنْ تَدْفَعَ إِلَى هَذَا سَلَبَ قَتِيلِهِ؟" قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" ادْفَعْهُ إِلَيْهِ"، قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِهِ، فَقَالَ: لِيَجْزِي لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ:" لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكِي أُمَرَائِي، إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا وْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَخَيَّرَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَةَ الْمَاءِ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ، فَصَفْوُهُ لَكُمْ، وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ" .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شام کی طرف ہم ایک غزوے میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے قبیلہ حمیر کا ایک آدمی ہمارے ساتھ آکر شامل ہوگیا وہ ہمارے خیمے میں رہنے لگا اس کے پاس تلوار کے علاوہ کوئی اور چیز یا اسلحہ بھی نہ تھا اس دوران ایک مسلمان نے ایک اونٹ ذبح کیا وہ شخص مسلسل تاک میں رہا حتی کے موقع ما کر ایک ڈھال کے برابر اس کی کھال حاصل کرلی اور اسے زمین پر بچھا دیا جب وہ خشک ہوگئی تو اس کے لئے ڈھال بن گئی۔ ادھر یہ ہوا کہ دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا جن میں رومی اور بنو قضاعہ کے عرب مشترکہ طور پر جمع تھے انہوں نے ہم سے بڑی سخت معرکہ آرائی کی رومیوں میں ایک آدمی ایک سرخ وسفید گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین بھی سونے کی تھی اور پٹکا بھی مخلوط سونے کا تھا یہی حال اس کی تلوار کا تھا وہ مسلمانوں پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہا تھا اور وہ حمیری آدمی مسلسل اس کی تاک میں تھا حتیٰ کہ جب وہ رومی اس کے پاس سے گذرا تو اس نے عقب سے نکل کر اس پر حملہ کردیا اور اس کے گھوڑے کی پنڈلی پر تلوار ماری جس سے وہ نیچے گرگیا پھر اس نے تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ اس رومی کو قتل کردیا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا اور لوگوں نے بھی گواہی دی کہ اس رومی کو اسی نے قتل کیا ہے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور کچھ سامان کو روک لیا اس نے عوف رضی اللہ عنہ کے خیمے میں واپس آکر ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم دوبارہ ان کے پاس جاؤ انہیں تمہارا سامان تمہیں دے دینا چاہئے چناچہ وہ دوبارہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا لیکن انہوں نے پھر انکار کردیا اس پر حضرت عوف کو ملے گا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اس کے مقتول کا سامان اس کے حوالے کرنے میں آپ کے لئے کیا رکاوٹ ہے؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اسے بہت زیادہ سمجھتا ہوں حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور دیکھ سکا تو ان سے اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر وہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو انہوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی چادر کھینچی اور فرمایا میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خالد! اب اسے نہ دینا (اور آپ نے فرمایا) کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑ نہیں سکتے؟ کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے خریدیں پھر (ان جانوروں) کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیزیں نگرانوں کے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23987]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1753
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23988
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُخَمِّسْ السَّلَبَ" .
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولوں سے چھینے ہوئے سازوسامان میں سے خمس نہیں نکالا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23988]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23989
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا، وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا" .
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا ایک اس امت کی اپنی اور دوسری اس کے دشمن کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23989]

حکم دارالسلام: إسناده حسن إن كان إسماعيل ابن عياش حفظه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں