🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25818
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ , فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ , ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25818]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1321
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25819
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا , وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا" , قُلْتُ: أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ:" يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا" , قُلْت: ُكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا؟ وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَت:" إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْح" .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کردو رکعتیں پڑھتے، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25819]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25820
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَال: َقَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَة ِ" ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ؟" فَقَالَ مَا هُنَّ؟ بَلْ أَنَا أُباِيعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ:" اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِك" , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً , فَقَالَتْ:" إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ" , وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا , فَلَا تَمَلُّ النَّاسُ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أَلْفيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ , فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنْ اتْرُكْهُمْ , فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ .
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ " جس کا نام ابن ابی السائب تھا " سے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جنہیں میرے سامنے ماننے کا اقرار کرو، ورنہ میں تم سے جنگ کروں گی، اس نے پوچھا وہ کیا؟ اے ام المومنین! میں آپ کے سامنے ان کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دعا میں الفاظ کی تک بندی سے اجتناب کیا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ ایسا نہیں کرتے تھے، دوسرے یہ کہ جمعہ میں لوگوں کے سامنے صرف ایک مرتبہ وعظ کہا کرو، اگر نہ مانو تو دو مرتبہ ورنہ تین مرتبہ، تم اس کتاب سے لوگوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرو اور تیسرے یہ کہ میں تمہیں کبھی اس طرح نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کے درمیان قطع کلامی کرنے لگو، بلکہ انہیں چھوڑے رکھو، اگر وہ تمہیں آگے بڑھنے دیں اور گفتگو میں شریک ہونے کا حکم دیں تب ان کی گفتگو میں شریک ہوا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25820]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25821
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ , يَقُولُهُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: " سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے " میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اس کی توفیق اور مدد سے ہوا ہے "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25821]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل بن خالد و أبى العالية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25822
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے جن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ " تخلیہ " فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25822]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25823
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَال: َقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ , أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا؟ فَقَال: َلَا أَبُوكَ أَبُوهَا , قَال: َثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ , فَقَال: َإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا , فَلَمْ تَأْذَنْ , لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَت: ْيَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ , فَلَمْ آذَنْ لَهُ , فَقَالَ: " هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ" فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ , وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ , فَقَال: َ" هُوَ عَمُّكَ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یار سول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25823]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، خ: 4796، م: 1445
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25824
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَال: َقَالَتْ عَائِشَة " كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے صرف سورت فاتحہ پڑھی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25824]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة وقد سلف برقم: 24125، بإسناد صحيح بلفظ: كان النبى لا يخفف الركعتين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25825
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمغِيرَةِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , قَال: َقَالَتْ عَائِشَة " بَعَثَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا , فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ , أَوْ أَمْسَكْتُ وَقَطَعَ , فَقَالَ: الَّذِي تُحَدِّثُه: ُأَعَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ؟ فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مِصْبَاحٌ لَائْتَدَمْنَا بِهِ , إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا , وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایہ بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہو، اگر ہمارے پاس چراغ ہوتا تو اسی کے ذریعے سالن حاصل کرلیتے اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکارتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25825]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن حميدا لم يسمع من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25826
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25826]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25827
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ , فَإِذَا رُمْحٌ مَنْصُوبٌ , فَقَالَت: ْمَا هَذَا الرُّمْحُ؟ فَقَالَت: ْنَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ , ثُمَّ حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ جَعَلَتْ الدَّوَابُّ كُلُّهَا تُطْفِئُ عَنْهُ إِلَّا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَنْفُخُهَا عَلَيْهِ" .
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25827]

حکم دارالسلام: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں