مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1276. وَمِنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27320
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي , وَأَرْسَلَ إِلَيَّ خَمْسَةَ آصُعِ شَعِيرٍ , فَقُلْتُ: مَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ وَلَا أَعْتَدُّ إِلَّا فِي بَيْتِكُمْ؟! قَالَ: لَا , فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي , ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" , قُلْتُ: ثَلَاثًا , قَالَ: " صَدَقَ , لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ , وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ , تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عَنْكِ , فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي" , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ , فِيهِمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ , وَأَبُو جَهْمٍ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَيْ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ" , أَوْ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ ابْنَ زَيْدٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس سے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا تین طلاقیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27320]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27321
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , بِنَحْوِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27321]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تميم مولي فاطمة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27322
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , تَقُولُ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا , " فَمَا جَعَلَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27322]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27323
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27323]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة زكريا عن الشعبي، وقد توبع
حدیث نمبر: 27324
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَآذَنَتْهُ , فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , وَأَبُو الْجَهْمِ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ , وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ , وَلَكِنْ أُسَامَةَ" , قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ! تَقُولُ: لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ" , فَتَزَوَّجَتْهُ , فَاغْتَبَطَتْهُ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا“، عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا: اسامہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے حق میں اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ میں نے اس رشتے کو منظور کر لیا بعد میں لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27324]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27325
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي عَاصِمٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ذَكَرَ الْمَدِينَةَ , فَقَالَ:" هِيَ طَيْبَةُ" .
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ طیبہ ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27325]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27326
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا: " لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27326]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27327
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِك ٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ , فَتَسَخَّطَتْهُ , فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ , فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ عَلَيْهِ" , فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ , ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي , فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ , فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَلَمَّا حَلَلْتُ , ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا الْجَهْمِ خَطَبَانِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ , وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ , انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا: تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہوچکی ہے تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ابوجہم جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27327]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27328
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , وَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَكَرِهْتُهُ , فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَنَكَحْتُهُ , فَجَعَلَ اللَّهُ لِي فِيهِ خَيْرًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27328]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27329
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنِ السُّدِّيِّ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" ، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ السُّدِّيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فَقَالَا: قَالَ عمر: لَا تُصَدِّقْ فَاطِمَةَ , لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ.
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ ابراہیم اور شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ فاطمہ کی بات کی تصدیق نہ کرو ایسی عورت کو رہائش اور نفقہ دونوں ملیں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27329]
حکم دارالسلام: قوله: لم يجعل لها سكني ولا نفقة صحيح، م: 1480