صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ:
باب: جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6536
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 قَالَ:" ذَلِكِ الْعَرْضُ"،
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6536]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حساب کے وقت مناقشہ ہوا تو اس کو ضرور عذاب ہوگا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] ”عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد تو صرف پیشی ہے۔“ مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عثمان بن اسود نے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا۔“ اس روایت کی متابعت ابن جریج، محمد بن سلیم، ایوب اور صالح بن رستم نے کی، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6536]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6536M
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ، وَأَيُّوبُ، وَصَالِحُ بْنُ رُسْتُمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے، انہوں نے کہا میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا۔ اور اس روایت کا متابعت ابن جریج، محمد بن سلیم، ایوب اور صالح بن رستم نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6536M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6537
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا هَلَكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ {7} فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا {8} سورة الانشقاق آية 7-8 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُنَاقَشُ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا عُذِّبَ".
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابوصغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا» کہ ”پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی۔ (اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6537]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا تو وہ ہلاک ہوا۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا: ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ * فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 7-8] (جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا)؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد تو اعمال کا پیش کیا جانا ہے، قیامت کے دن جس کا باریک بینی سے محاسبہ ہوا تو اسے یقیناً عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6537]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6538
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ كُنْتَ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر زمین بھر کر تمہارے پاس سونا ہو تو کیا سب کو (اپنی نجات کے لیے) فدیہ میں دے دو گے؟ وہ کہے گا کہ ہاں، تو اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے بہت آسان چیز کا (دنیا میں) مطالبہ کیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6538]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: بھلا بتا تو سہی اگر تیرے پاس زمین بھر کر سونا ہو تو کیا (وہ سارے کا سارا) تو بطور فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ (اس وقت) اسے کہا جائے گا: یقیناً تجھ سے (دنیا میں) اس سے بہت آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6538]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6539
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرَى شَيْئًا قُدَّامَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ".
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خیثمہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ اللہ کی راہ میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6539]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر ہر فرد سے اس طرح کلام کرے گا کہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے سامنے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ آگے دیکھے گا تو آگ اس کا استقبال کرے گی، لہٰذا تم میں سے جو آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ ضرور بچے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ممکن ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6539]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6540
قَالَ الْأَعْمَشُ: حَدَّثَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثَلَاثًا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، پھر آپ نے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا جہنم سے بچو۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ جہنم دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے (لوگوں میں) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعہ سے ہی (جہنم سے) بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6540]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے بچو۔“ پھر آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر فرمایا: ”جہنم سے بچو۔“ پھر آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور ناگواری کا اظہار کیا۔ تین مرتبہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ ہمیں اس سے خیال پیدا ہوا کہ آپ جہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر آپ نے فرمایا: ”جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ممکن ہو، جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے کسی اچھی بات کہنے کے ذریعے سے ہی بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6540]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة