🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ:
باب: اللہ کے علم (تقدیر) کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6596
{وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ} وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَهَا سَابِقُونَ} سَبَقَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأضله الله على علم‏» جیسا اللہ کے علم میں تھا اس کے مطابق ان کو گمراہ کر دیا۔ (یہ ترجمہ باب خود ایک حدیث میں مذکور ہے جسے امام احمد اور ابن حبان نے نکالا ہے۔) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہو چکا ہے (وہ لکھا جا چکا ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لها سابقون‏» کی تفسیر میں فرمایا کہ نیک بختی پہلے ہی ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: Q6596]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6596
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ، قَالَ:" كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6596]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنتی لوگ اہل جہنم سے پہچانے جا چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے عرض کی: پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لیے آسان کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6596]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں