علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب جف القلم على علم الله:
باب: اللہ کے علم (تقدیر) کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
حدیث نمبر: Q6596
{وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ} وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَهَا سَابِقُونَ} سَبَقَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأضله الله على علم» ”جیسا اللہ کے علم میں تھا اس کے مطابق ان کو گمراہ کر دیا۔“ (یہ ترجمہ باب خود ایک حدیث میں مذکور ہے جسے امام احمد اور ابن حبان نے نکالا ہے۔) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہو چکا ہے (وہ لکھا جا چکا ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لها سابقون» کی تفسیر میں فرمایا کہ نیک بختی پہلے ہی ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: Q6596]
حدیث نمبر: 6596
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ، قَالَ:" كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6596]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7551
| كل ميسر لما خلق له |
صحيح البخاري |
6596
| كل يعمل لما خلق له أو لما يسر له |
صحيح مسلم |
6739
| أرأيت ما يعمل الناس اليوم ويكدحون فيه أشيء قضي عليهم ومضى عليهم من قدر ما سبق فيما يستقبلون به مما أتاهم به نبيهم وثبتت الحجة عليهم فقلت بل شيء قضي عليهم ومضى عليهم قال أفلا يكون ظلما ففزعت من ذلك فزعا شديدا وقلت كل شيء خلق الله ومل |
صحيح مسلم |
6737
| كل ميسر لما خلق له |
سنن أبي داود |
4709
| كل ميسر لما خلق له |
مشكوة المصابيح |
87
| لا بل شيء قضي عليهم ومضى فيهم وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقواها |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6596 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6596
حدیث حاشیہ:
رشك بکسر یزید کا لقب ہے، ان کی ڈاڑھی بہت ہی لمبی تھی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
رشك بکسر یزید کا لقب ہے، ان کی ڈاڑھی بہت ہی لمبی تھی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6596]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6596
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قضا و قدر انسان کے متعلق کر چکی ہے، باقی رہے ہمارے ظاہری اعمال تو وہ انسان کے اچھے اور برے ہونے کی صرف ظاہری نشانیاں ہیں۔
اچھے اعمال سے حسن خاتمہ کی امید اور برے اعمال سے برے خاتمے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
(2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی؟ آپ نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر ان کے متعلق نافذ ہو چکی ہے اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے:
”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے درست کیا! پھر بدکاری اور پرہیزگاری (دونوں)
کی اسے سمجھ عطا کی۔
“ (الشمس 7/91، 8، و صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6739 (2650) (3)
واضح رہے کہ اس معنی کی دیگر احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لیے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
بہرحال ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے جنتی ہونے کی دعا کرتا رہے۔
واللہ المستعان
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قضا و قدر انسان کے متعلق کر چکی ہے، باقی رہے ہمارے ظاہری اعمال تو وہ انسان کے اچھے اور برے ہونے کی صرف ظاہری نشانیاں ہیں۔
اچھے اعمال سے حسن خاتمہ کی امید اور برے اعمال سے برے خاتمے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
(2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی؟ آپ نے فرمایا:
”نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر ان کے متعلق نافذ ہو چکی ہے اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے:
”اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے درست کیا! پھر بدکاری اور پرہیزگاری (دونوں)
کی اسے سمجھ عطا کی۔
“ (الشمس 7/91، 8، و صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6739 (2650) (3)
واضح رہے کہ اس معنی کی دیگر احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لیے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
بہرحال ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے جنتی ہونے کی دعا کرتا رہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6596]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 87
قسمت میں لکھا پورا ہو کر رہتا ہے
«. . . وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ یہ فرمائیے جو کچھ آج کل لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کرتے ہیں، کیا وہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور ان کی تقدیر میں گزر چکی ہے یعنی جو کچھ لوگ کرتے ہیں یہ سب پہلے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یا آئندہ وہ چیز ہونے والی ہے جن کو ان کا نبی لایا ہے اور ان پر حجت و دلیل ثابت ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس کا فیصلہ ہو چکا اور یہ چیز ان پر گزر چکی ہے اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے «ونفس وما سواها ٭فألهمها فجورها وتقواها» الایۃ یعنی قسم ہے جان کی اور اس کے بنانے والے کی، پھر اس کے دل میں بھلائی و برائی ڈال دی ہے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]
«. . . وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ یہ فرمائیے جو کچھ آج کل لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کرتے ہیں، کیا وہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور ان کی تقدیر میں گزر چکی ہے یعنی جو کچھ لوگ کرتے ہیں یہ سب پہلے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یا آئندہ وہ چیز ہونے والی ہے جن کو ان کا نبی لایا ہے اور ان پر حجت و دلیل ثابت ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! اس کا فیصلہ ہو چکا اور یہ چیز ان پر گزر چکی ہے اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے «ونفس وما سواها ٭فألهمها فجورها وتقواها» الایۃ یعنی قسم ہے جان کی اور اس کے بنانے والے کی، پھر اس کے دل میں بھلائی و برائی ڈال دی ہے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]
تخریج:
[صحيح مسلم 6739]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ تقدیر پہلے سے مقرر شدہ ہے اور انسان مجبور محض نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں خود مختار ہے۔
➋ حدیث اور قرآن ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
[صحيح مسلم 6739]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ تقدیر پہلے سے مقرر شدہ ہے اور انسان مجبور محض نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں خود مختار ہے۔
➋ حدیث اور قرآن ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 87]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4709
تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4709]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4709]
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں تقدیرکو صراحتًا (اللہ کا) علم قراردیا گیا ہے، اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
اس حدیث میں تقدیرکو صراحتًا (اللہ کا) علم قراردیا گیا ہے، اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4709]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6739
ابو الاسود ولی کہتے ہیں،مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا جانتے ہو؟آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے جو مشقت برداشت کر رہے ہیں،کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فاصلہ کر دیا گیا ہے وہ سابقہ تقدیر سے یہ طے ہو چکے ہیں؟یا ان کا نبی جو شریعت لایا اور ان پر حجت قائم ہو گئی ہے، اس کی روشنی میں نئے سرے سے ہو رہے ہیں؟ تو میں نے کہا بلکہ یہ ایسی چیز ہے، جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6739]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بدی اور تقویٰ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت اور شعور بخشا ہے اور اس سے کام لے کر،
وہ نیکی یا بدی کر رہا ہے،
لیکن اللہ کو پہلے سے پتہ ہے،
اس نے نیکی کرنی ہے یا بدی،
اس لیے اپنے علم کے مطابق اس نے لکھ دیا ہے کہ اس نے کون سے عمل کرنے ہیں اور اس کے مطابق وہ عمل کر رہا ہے،
اس لیے یہ جبر نہیں ہے کہ اس کو ظلم قرار دیا جائے،
بالفرض وہ اگر جبر بھی کرتا تو یہ ظلم نہ ہوتا،
کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے،
اس لیے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہے،
انسان مخلوق ہونے کی بنا پر اپنے اعمال کا جوابدہ ہے،
اس سے سوال ہو گا تو نے یہ عمل کیوں کیا،
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ﴿٢٣﴾ (سورۃ الانبیاء)
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا،
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بدی اور تقویٰ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت اور شعور بخشا ہے اور اس سے کام لے کر،
وہ نیکی یا بدی کر رہا ہے،
لیکن اللہ کو پہلے سے پتہ ہے،
اس نے نیکی کرنی ہے یا بدی،
اس لیے اپنے علم کے مطابق اس نے لکھ دیا ہے کہ اس نے کون سے عمل کرنے ہیں اور اس کے مطابق وہ عمل کر رہا ہے،
اس لیے یہ جبر نہیں ہے کہ اس کو ظلم قرار دیا جائے،
بالفرض وہ اگر جبر بھی کرتا تو یہ ظلم نہ ہوتا،
کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے،
اس لیے وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہے،
انسان مخلوق ہونے کی بنا پر اپنے اعمال کا جوابدہ ہے،
اس سے سوال ہو گا تو نے یہ عمل کیوں کیا،
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ﴿٢٣﴾ (سورۃ الانبیاء)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6739]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7551
7551. حضرت عمرانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر لوگ عمل کس لیے کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:”ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7551]
حدیث حاشیہ:
یعنی جس کی قسمت میں جنت ہے اس کو خود بخوداعمال خیر کو توفیق ہوگی وہ نیک کاموں میں راغب ہوگا اورجس کی تقدیر میں دوزخ ہے اس کو نیک کاموں سےنفرت اور برے کاموں کی رغبت ہوگی۔
یہ دونوں احادیث اوبرگزرچکی ہیں۔
یہاں لفظ تیسیر کی مناسبت سے ان کو لائے۔
یعنی جس کی قسمت میں جنت ہے اس کو خود بخوداعمال خیر کو توفیق ہوگی وہ نیک کاموں میں راغب ہوگا اورجس کی تقدیر میں دوزخ ہے اس کو نیک کاموں سےنفرت اور برے کاموں کی رغبت ہوگی۔
یہ دونوں احادیث اوبرگزرچکی ہیں۔
یہاں لفظ تیسیر کی مناسبت سے ان کو لائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7551]
Sahih Bukhari Hadith 6596 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي