🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:
باب: اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَتْفِلَنَّ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى"، وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ، لَا يَتْفِلُ قُدَّامَهُ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ شُعْبَةُ: لَا يَبْزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، وَقَالَ حُمَيْدٌ: عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَبْزُقْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے قتادہ ابن دعامہ کے واسطے سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اس لیے اپنی داہنی جانب نہ تھوکنا چاہیے لیکن بائیں پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 531]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے مناجات کرتا ہے، اس لیے وہ اپنی دائیں جانب نہ تھوکے، البتہ بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ اس روایت میں سعید (بن ابی عروبہ) اپنے شیخ حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: نمازی کو اپنے سامنے یا آگے نہیں تھوکنا چاہیے لیکن بائیں جانب یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ شعبہ کی روایت میں ہے: اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے، بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوک لے۔ حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل کیا ہے: قبلے کی جانب یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں! اگر بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوک لے تو کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ، وَإِذَا بَزَقَ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ کرنے میں اعتدال رکھو (سیدھی طرح پر کرو) اور کوئی شخص تم میں سے اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ جب کسی کو تھوکنا ہی ہو تو سامنے یا داہنی طرف نہ تھوکے، کیونکہ وہ نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ باتیں کرتا رہتا ہے اور سعید نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ آگے یا سامنے نہ تھوکے البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے اور شعبہ نے کہا کہ اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ اور حمید نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 532]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدہ اچھی طرح اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ اگر اسے تھوکنے کی ضرورت ہو تو اپنے آگے اور دائیں جانب نہ تھوکے کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں