صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَنْ أَعَانَ الْمُعْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ:
باب: جس نے کفارہ کے ادا کرنے کے لیے کسی تنگ دست کی مدد کی۔
حدیث نمبر: 6710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ فَقَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" تَجِدُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِعَرَقٍ، وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: أَعَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ".
ہم سے محمد بن محبوب بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا متواتر دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک انصاری صحابی «عرق» لے کر حاضر ہوئے، «عرق» ایک پیمانہ ہے، اس میں کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ان دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا اور اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6710]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا: ”میں تباہ ہو گیا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: ”میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی غلام ہے (جسے تو آزاد کر سکے؟)“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم متواتر دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ اسی دوران ایک انصاری کھجوروں سے بھرا ہوا ایک «عَرَق» لے کر حاضر ہوئے، «عَرَق» بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! مدینہ طیبہ کے ان دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ کوئی اور محتاج نہیں ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، اسے لے جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة