🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ مَا يَجُوزُ فِي اسْتِثْنَاءِ الثَّمَرِ
کچھ پھل یا میوے کا بیع یا بیع سے مستثنیٰ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ " يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْهُ"
ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت قاسم بن محمد اپنے باغ کے میووں کو بیچتے، پھر اس میں سے کچھ مستثنیٰ کر لیتے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21199، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3414، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 60/3، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 17»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ جَدَّهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ " بَاعَ ثَمَرَ حَائِطٍ لَهُ، يُقَالُ لَهُ: الْأَفْرَقُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَاسْتَثْنَى مِنْهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ تَمْرًا"
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ اُن کے دادا محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے باغ کا میوہ بیچا چار ہزار درہم کو، اس میں سے آٹھ سو درہم کے کھجور مستثنیٰ کر لئے، اس باغ کا نام افرق تھا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15151، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21197، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3415، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 60/3، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 18»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ " تَبِيعُ ثِمَارَهَا وَتَسْتَثْنِي مِنْهَا" . قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا بَاعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ثُلُثِ الثَّمَرِ لَا يُجَاوِزُ ذَلِكَ، وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ. قَالَ مَالِك: فَأَمَّا الرَّجُلُ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ ثَمَرَ نَخْلَةٍ أَوْ نَخَلَاتٍ يَخْتَارُهَا وَيُسَمِّي عَدَدَهَا، فَلَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، لِأَنَّ رَبَّ الْحَائِطِ إِنَّمَا اسْتَثْنَى شَيْئًا مِنْ ثَمَرِ حَائِطِ نَفْسِهِ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ احْتَبَسَهُ مِنْ حَائِطِهِ وَأَمْسَكَهُ لَمْ يَبِعْهُ، وَبَاعَ مِنْ حَائِطِهِ مَا سِوَى ذَلِكَ
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنے پھلوں کو بیچتیں اور اس میں سے کچھ نکال لیتیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو آدمی اپنے باغ کا میوہ بیچے اس کو اختیار ہے کہ تہائی مال تک مستثنیٰ کرے، اس سے زیادہ درست نہیں، اور جو سارے باغ میں سے ایک درخت یا درخت کے پھل مستثنیٰ کر لے اور اس کو معین کر دے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے، کیونکہ گویا مالک نے سوائے ان درختوں کے باقی کو بیچا اور ان کو نہ بیچا اس امر کا مالک کو اختیار ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3416، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21614، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 60/3، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 19»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں