🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ احْتِيَالِ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ:
باب: عامل کا تحفہ لینے کے لیے حیلہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6979
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْلَّتَبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطِهِ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصْرَ عَيْنِي وَسَمْعَ أُذُنِي".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بنی سلیم کے صدقات کی وصولی کے لیے عامل بنایا ان کا نام ابن اللتیبہ تھا پھر جب یہ عامل واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حساب لیا ‘ اس نے سرکاری مال علیحدہ کیا اور کچھ مال کی نسبت کہنے لگا کہ یہ (مجھے) تحفہ میں ملا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیوں نہ تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھے رہے اگر تم سچے ہو تو وہیں یہ تحفہ تمہارے پاس آ جاتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں تم میں سے کسی ایک کو اس کام پر عامل بناتا ہوں جس کا اللہ نے مجھے والی بنایا ہے پھر وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہنا چاہئیے تھا تاکہ اس کا تحفہ وہیں پہنچ جاتا۔ اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی حق کے سوا کوئی چیز لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس چیز کو اٹھائے ہوئے ہو گا بلکہ میں تم میں ہر اس شخص کو پہچان لوں گا جو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اونٹ اٹھائے ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا یا گائے اٹھائے ہو گا جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی یا بکری اٹھائے ہو گا جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا، اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا۔ یہ فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6979]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابن اللتبیہ کہا جاتا تھا۔ وہ صدقات لے کر واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حساب کتاب لیا، اس نے کہا: یہ تمہارا مال ہے اور یہ (میرا) ہدیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو سچا ہے تو اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا، وہیں یہ تحائف تیرے پاس آ جاتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» اما بعد! میں تم میں سے کسی کو اس کام پر عامل بناتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے، پھر وہ شخص میرے پاس آ کر کہتا ہے: یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے والدین کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا تاکہ وہیں اسے ہدایا پہنچ جائیں؟ اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی حق کے بغیر کوئی چیز لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس چیز کو اٹھائے ہوئے ہوگا۔ میں تم میں سے ہر اس شخص کو پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ اونٹ اٹھائے ہوئے ہوگا جو بلبلا رہا ہوگا یا گائے اٹھائے ہوئے ہوگا جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی یا بکری اٹھائے ہوئے ہوگا جو ممیا رہی ہوگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» اے اللہ! کیا میں نے تیرا حکم لوگوں تک پہنچا دیا ہے؟ راوی کہتا ہے: یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور میرے کانوں نے ان باتوں کو سنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6980
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنِ اشْتَرَى دَارًا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يَشْتَرِيَ الدَّارَ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَيَنْقُدَهُ تِسْعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَيَنْقُدَهُ دِينَارًا بِمَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينَ الْأَلْفَ، فَإِنْ طَلَبَ الشَّفِيعُ أَخَذَهَا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَإِلَّا فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَى الدَّارِ، فَإِنِ اسْتُحِقَّتِ الدَّارُ، رَجَعَ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِمَا دَفَعَ إِلَيْهِ، وَهُوَ تِسْعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ وَتِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِرْهَمًا وَدِينَارٌ، لِأَنَّ الْبَيْعَ حِينَ اسْتُحِقَّ انْتَقَضَ الصَّرْفُ فِي الدِّينَارِ، فَإِنْ وَجَدَ بِهَذِهِ الدَّارِ عَيْبًا وَلَمْ تُسْتَحَقَّ فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَأَجَازَ هَذَا الْخِدَاعَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْعُ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ، وَلَا خِبْثَةَ، وَلَا غَائِلَةَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے ‘ ان سے عمرو بن شرید نے اور ان سے ابورافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی شخص نے ایک گھر بیس ہزار درہم کا خریدا (تو شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے) یہ حیلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ مالک مکان کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم نقد ادا کرے اب بیس ہزار کے تکملہ میں جو باقی رہے یعنی دس ہزار اور ایک درہم اس کے بدل مالک مکان کو ایک دینار (اشرفی) دیدے۔ اس صورت میں اگر شفیع اس مکان کو لینا چاہے گا تو اس کو بیس ہزار درہم پر لینا ہو گا ورنہ وہ اس گھر کو نہیں لے سکتا۔ ایسی صورت میں اگر بیع کے بعد یہ گھر (بائع کے سوا) اور کسی کا نکلا تو خریدار بائع سے وہی قیمت واپس لے گا جو اس نے دی ہے یعنی نو ہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار (بیس ہزار درہم نہیں واپس سکتا) کیونکہ جب وہ گھر کسی اور کا نکلا تو اب وہ بیع صرف جو بائع اور مشتری کے بیچ میں ہو گئی تھی بالکل باطل ہو گئی (تو اصل) دینار پھرنا لازم ہو گا نہ کہ اس کے ثمن (یعنی دس ہزار اور ایک درہم) اگر اس گھر میں کوئی عیب نکلا لیکن وہ بائع کے سوا کسی اور کی ملک نہیں نکلا تو خریدار اس گھر کو بائع کو واپس اور بیس ہزار درہم اس سے لے سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے آپس میں مکر و فریب کو جائز رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ مسلمان کی بیع میں جو مسلمان کے ساتھ ہو نہ عیب ہونا چاہئیے یعنی (بیماری) نہ خباثت نہ کوئی آفت۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6980]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» پڑوسی اپنی ہمسائیگی کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے۔ (اس کے باوجود) بعض لوگوں نے کہا ہے: اگر کسی نے بیس ہزار درہم میں مکان خریدا تو (اسقاطِ حقِ شفعہ کے لیے) حیلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ بیس ہزار درہم کا سودا کر لے، پھر مکان کے مالک کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم نقد دے دے اور بیس ہزار میں سے باقی (دس ہزار ایک درہم) کے عوض اسے ایک دینار دے دے۔ اس صورت میں شفعہ کرنے والے کا اس مکان کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ پھر اگر مکان کا کوئی اور حق دار نکل آیا تو خریدار، فروخت کرنے والے سے وہی رقم واپس لے گا جو اس نے دی ہے، یعنی نو ہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار، کیونکہ اس گھر کا جب اور کوئی حق دار نکل آیا تو بیعِ صرف جو دینار کے متعلق ہوئی تھی ختم ہو گئی۔ اور اگر اس گھر میں کوئی عیب ثابت ہوا اور اس کا کوئی دوسرا حق دار نہ نکلا تو وہ اسے بیس ہزار درہم کے عوض واپس کرے گا۔ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے مسلمانوں کے درمیان مکر و فریب کو جائز رکھا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کی خرید و فروخت میں «لَا عِدَةَ وَلَا خِبْثَةَ وَلَا غَائِلَةَ» کوئی عیب، خباثت اور آفت نہیں ہونی چاہیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6980]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6981
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ سَاوَمَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ" مَا أَعْطَيْتُكَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن شرید نے کہ ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایک گھر چار سو مثقال میں بیچا اور کہا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی حق پڑوس کا زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو یہ گھر نہ دیتا (اور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالتا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6981]
حضرت عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایک گھر چار سو مثقال میں فروخت کیا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ پڑوسی ہمسائیگی کا زیادہ حق دار ہے تو میں آپ کو یہ گھر فروخت نہ کرتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں