🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

583. لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ
لوگوں پر جو بھی دور آئے گا وہ اپنے سے پہلے دور سے برا ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 903
903 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْهَرَوِيُّ، أنا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ مُعَاذِ بْنِ نَجْدَةَ الْعُرْيَانُ، نا خَلَّادُ بْنُ صَفْوَانَ، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلً الْبَجَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَوْ نا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: «لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الَّذِي كَانَ قَبْلَكُمْ» سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی دور آئے گا وہ اپنے سے پہلے دور سے برا ہوگا۔ ہم نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 7068، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5952، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2206، والطبراني فى «الصغير» برقم: 528، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12345، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4036، 4037، والبزار فى «مسنده» برقم: 7482»
وضاحت: تشریح: -
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے ان سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی جو حجاج کی طرف سے ہمیں پہنچے تھے، تب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آئے گا اس کے بعد والا دور اس سے بھی برا ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ بات تمہارے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [بخاري: 7068]
اس حدیث میں اس بات کی پیش گوئی ہے کہ حالات دن بدن خراب سے خراب تر اور اسی حساب سے حکمران بھی ظالم اور بد سے بدتر ہوں گے، ایسے حالات میں حکمرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہر شخص اپنی اصلاح کرے اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کرے اور حکمرانوں کی طرف سے ظلم و ستم کا ارتکاب ہو تو اسے برداشت کرے اور صبر سے کام لے۔ (ریاض الصالحين: 1/126)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں