صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 7099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:" لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ، لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى، قَالَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً".
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ان سے حسن نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7099]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایامِ جمل کے دوران میں ایک ہی بات کے ذریعے سے فائدہ پہنچایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا سربراہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جنہوں نے اپنے (حکومتی) معاملات ایک عورت کے حوالے کر دیے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7099]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7100
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: لَمَّا سَارَ طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَائِشَةُ، إِلَى الْبَصْرَةِ بَعَثَ عَلِيٌّ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَدِمَا عَلَيْنَا الْكُوفَةَ، فَصَعِدَا الْمِنْبَرَ، فَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَوْقَ الْمِنْبَرِ فِي أَعْلَاهُ، وَقَامَ عَمَّارٌ أَسْفَلَ مِنَ الْحَسَنِ، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَسَمِعْتُ عَمَّارًا، يَقُولُ:" إِنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَارَتْ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابْتَلَاكُمْ لِيَعْلَمَ إِيَّاهُ تُطِيعُونَ أَمْ هِيَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7100]
حضرت ابو مریم عبداللہ بن زیاد اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ پر تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ان سے نیچے کی سیڑھی پر تھے۔ ہم ان کے پاس جمع ہو گئے۔ پھر میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم صرف اس کی اطاعت کرتے ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہا مانتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7100]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7101
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا، وَقَالَ:"إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7101]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ کوفہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور فرمایا: ”بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، لیکن تمہیں ان کے متعلق آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7102
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7102]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”جب سے تم مسلمان ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: ”میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7103
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7103]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ) سے کہا: ”جب سے تم مسلمان ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: ”میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7104
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7104]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف بھیجا تھا کہ وہ انہیں مدد کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں۔ ان دونوں نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلد بازی دکھا رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا: ”میں نے بھی جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا، پھر وہ (تینوں مل کر) مسجد میں تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7105
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ:" مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7105]
حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت ابو مسعود انصاری، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے لوگ ہیں، اگر میں چاہوں تو تمہارے علاوہ ہر ایک کے متعلق کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں، لیکن جب سے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے، میں نے تمہارا کوئی عیب نہیں دیکھا، بس یہی ایک بات ہے کہ تم اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو مسعود! جب سے تم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے، میں نے تمہارے اس ساتھی کے متعلق کوئی عیب نہیں دیکھا سوائے اس بات کے کہ تم اس معاملے میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ چونکہ صاحبِ ثروت تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: ”دو جوڑے لاؤ“، چنانچہ انہوں نے ایک جوڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیا، پھر ان دونوں سے فرمایا: ”انہیں زیب تن کر کے جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7105]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7106
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ:" مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7106]
حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت ابو مسعود انصاری، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے لوگ ہیں اگر میں چاہوں تو تمہارے علاوہ ہر ایک کے متعلق کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن جب سے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارا کوئی عیب نہیں دیکھا، بس یہی ایک بات ہے کہ تم اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابو مسعود! جب سے تم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارے اس ساتھی کے متعلق کوئی عیب نہیں دیکھا سوائے اس بات کے کہ تم اس معاملے میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ چونکہ صاحب ثروت تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: ”دو جوڑے لاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے ایک جوڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیا، پھر ان دونوں سے فرمایا: ”انہیں زیبِ تن کر کے جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7106]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7107
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ:" مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7107]
حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے لوگ ہیں اگر میں چاہوں تو تمہارے علاوہ ہر ایک کے متعلق کچھ نہ کچھ کہہ سکتا ہوں، لیکن جب سے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارا کوئی عیب نہیں دیکھا، بس یہی ایک بات ہے کہ تم اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابومسعود! جب سے تم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے تمہارے اس ساتھی کے متعلق کوئی عیب نہیں دیکھا سوائے اس بات کے کہ تم اس معاملے میں دیر کر رہے ہو۔“ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ چونکہ صاحبِ ثروت تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: ”دو جوڑے لاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے ایک جوڑا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیا، پھر ان دونوں سے فرمایا: ”انہیں زیب تن کر کے جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة