صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. (54) بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَادَثَةِ عَلَى الْغَائِطِ
قضائے حاجت کرتے وقت باتیں کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَخْرُجِ الرَّجُلانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ" . حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي الْوَرَّاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الشَّيْخُ هُوَ عِيَاضُ بْنُ هِلالٍ، رَوَى عَنْهُ يَحْيَى ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ مِنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ: عَنْ هِلالِ بْنِ عِيَاضٍ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو شخص قضائے حاجت کے لیے اس حالت میں نہ نکلیں کہ اُنہوں نے اپنی شرم گاہیں کھولی ہوئی ہوں اور وہ باتیں کر رہے ہوں۔ بیشک اللہ عزوجل اس پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“ امام ابو بکر رحمہ اللہ، محمد بن یحییٰ سے ایک اور سند بیان کرتے ہیں، اُس میں یحییٰ بن ابی کثیر کے استاد کا نام عیاض بن ہلال ہے (جبکہ مذکورہ بالا حدیث کی سند میں ہلال بن عیاض ہے) امام صاحب فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس استاد کا نام عیاض بں ہلال ہی ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے اُن سے کئی روایات بیان کی ہیں۔ میرے خیال میں یہ وہم عکرمہ بن عمار کی وجہ سے ہوا ہے جنہوں نے روایت بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ «عن ھلال بن عیاض» ۔ (یعنی انہوں نے بیٹے کو باپ کی جگہ بیان کر دیا۔)“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْآدَابِ الْمُحْتَاجِ إِلَيْهَا فِي إِتْيَانِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ إِلَى الْفَرَاغِ مِنْهَا/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 71، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1422، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 561، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 36، وأبو داود فى (سننه) برقم: 15، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 342، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 488، 489، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11485»